آندھراپردیش

سمندری طوفان کا خطرہ، کئی اضلاع میں الرٹ

خلیج بنگال میں موجود سمندری طوفان ’مرسو‘ شدت اختیار کرتے ہوئے شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہوگیا ہے اور منگل کی رات آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔

امراوتی۔ 2/ نومبر (آئی اے این ایس) خلیج بنگال میں موجود سمندری طوفان ’مرسو‘ شدت اختیار کرتے ہوئے شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہوگیا ہے اور منگل کی رات آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔

محکمہ کے مطابق سمندری طوفان ’مرسو‘ مغربی وسطی اور اس سے متصل جنوب مغربی خلیج بنگال کے اوپر تقریباً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ چھ گھنٹوں کے دوران اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔2 نومبر کو صبح 2:30 بجے یہ طوفان اسی خطہ میں مرکوز تھا، جو تمل ناڈو کے چینائی سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال مشرق، نیلور سے 290 کلومیٹر جنوب مشرق، آندھرا پردیش کے مچلی پٹنم سے 320 کلومیٹر جنوب مشرق، کاولی سے 310 کلومیٹر مشرق-جنوب مشرق، اونگول سے 360 کلومیٹر جنوب اور وشاکھاپٹنم سے تقریباً 470 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے مزید شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے جنوبی آندھرا پردیش کے ساحل کو عبور کرنے کا قوی امکان ہے۔ 2 نومبر کی نصف شب سے 3 نومبر کی علی الصبح کے درمیان نیلور سے نرساپور کے ساحلی علاقوں میں، اونگول کے قریب، اس کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے پی ایس ڈی ایم اے) نے عوام کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ریئل ٹائم گورننس سوسائٹی (آر ٹی جی ایس) سینٹر کے چیف ایگزیکٹیو پرکاش جین نے بتایا کہ پیر اور منگل کو جنوبی ساحلی آندھرا پردیش اور رائلسیما کے علاقوں میں شدید تا انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔کرشنا، گنٹور، باپٹلہ، پرکاشم، مارکاپورم اور نیلور اضلاع کے مختلف مقامات پر شدید بارش متوقع ہے، جبکہ ایک یا دو مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے۔

اسی طرح الورو، مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری، این ٹی آر، پلناڈو، تروپتی، چتور، انامیا، پالناڈو، کاکیناڈا اور کوناسیما اضلاع کے بعض علاقوں میں بھی شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نندیال، وائی ایس آر کڑپہ اور انامیا اضلاع کے بعض مقامات پر بھی موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی چھ اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی سات ٹیموں کو راحت اور بچاؤ کارروائیوں کے لیے پہلے ہی تعینات کردیا گیا ہے۔

طوفان کے باعث بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے، خصوصاً بجلی کے کھمبے اکھڑنے کے خدشے کے پیش نظر آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے اتوار کے روز تمل ناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن اور کرناٹک کے چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار سے فون پر بات کرتے ہوئے ان سے بجلی کی بحالی کے کاموں کے لیے ضروری عملہ اور مشینری آندھرا پردیش روانہ کرنے کی درخواست کی۔

اتوار کی رات جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق دونوں چیف منسٹرس نے مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آندھرا پردیش کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ چندرابابو نائیڈو نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے عہدیدار دونوں ریاستوں کے متعلقہ حکام کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے ضروری تعاون حاصل کریں گے۔دریں اثنا، تلنگانہ کے بجلی محکمہ کا عملہ بھی طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے نظام کی بحالی کے لیے پہلے ہی میدانی سطح پر سرگرم ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر آندھرا پردیش حکومت نے بجلی محکمہ کے ان ملازمین کو بھی تیار رکھا ہے۔