اے پی: ٹرین میں آگ۔ضعیف شخص زندہ جھلس کر ہلاک،دوبوگیاں جل کرخاکستر،مسافرین میں افراتفری، جان بچانے دوڑنے لگے
ذرائع کے مطابق بی ون بوگی کے بریک جام ہونے کی وجہ سے رگڑ پیدا ہوئی جو آگ لگنے کا سبب بنی۔ اس افسوسناک واقعہ میں وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ چندر شیکھر سندر کی موت واقع ہوگئی جبکہ دیگر مسافرین معمولی زخمی ہوگئے تاہم مسافروں کا تمام سامان آگ کی نذر ہو گیا۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش کے ضلع انکاپلی میں ایلامنچلی ریلوے اسٹیشن کے قریب اتوار اور پیر کی درمیانی شب ٹرین میں بڑے پیمانہ پر آگ لگ گئی۔
وشاکھاپٹنم اور دوواڈا کے راستے ارناکولم جانے والی ٹاٹا۔ارناکولم ایکسپریس (ٹرین نمبر 18189) میں یہ آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجہ میں ایک ضعیف شخص زندہ جھلس کر ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر مسافرین محفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ کل رات تقریباً 1.30بجے اس وقت پیش آیا جب مسافر گہری نیند میں تھے۔ ٹرین کی پینٹری کار کے قریب واقع اے سی بوگیوں بی ون اورایم ٹو میں اچانک آگ لگ گئی۔ لوکو پائلٹوں نے خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر ٹرین کو ایلامنچلی کے قریب روک دیا اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ فائر فائٹرس کے پہنچنے سے پہلے ہی دونوں بوگیاں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔
اسٹیشن کا پورا علاقہ کثیف دھوئیں کی لپیٹ میں آگیا جس سے مسافروں میں افراتفری مچ گئی اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے ٹرین سے اتر کر اسٹیشن کی طرف دوڑنے لگے۔
ذرائع کے مطابق بی ون بوگی کے بریک جام ہونے کی وجہ سے رگڑ پیدا ہوئی جو آگ لگنے کا سبب بنی۔ اس افسوسناک واقعہ میں وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ چندر شیکھر سندر کی موت واقع ہوگئی جبکہ دیگر مسافرین معمولی زخمی ہوگئے تاہم مسافروں کا تمام سامان آگ کی نذر ہو گیا۔
اس واقعہ کے بعد وشاکھاپٹنم۔وجئے واڑہ روٹ پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی۔
ریاستی وزیر داخلہ انیتا نے اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکام سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے اور ٹرینوں کی آمد و رفت کو بحال کرنے کی ہدایت دی۔ ریلوے کے ڈی آر ایم موہت نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ بوگیوں کے مسافروں کو بسوں کے ذریعہ انکاپلی منتقل کیا گیا ہے اور متبادل بوگیاں لگا کر مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔