حیدرآباد

کے سی آرکی حکمرانی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی: کے ٹی آر

قانون ساز اسمبلی میں بی آرایس کے لیڈروں جگدیشور ریڈی، ہریش راؤکوبی آرایس پر لگائے گئے الزامات پر اظہارخیال کا موقع نہیں دیاگیا ہے۔حکومت نے اسمبلی میں وائٹ پیپر پیش کرتے ہوئے جلد بازی میں کارروائی کو ملتوی کردیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی اپوزیشن جماعت بی آرایس کے کارگذارصدرتارک راما راو نے حکمران جماعت کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے الزا م لگایا کہ سابق وزیراعلی کے چندرشیکھرراو اور بی آرایس کی حکمرانی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد

 انہوں نے پارٹی کے ہیڈکوارٹرس تلنگانہ بھون میں بی آر ایس کی دس سالہ حکمرانی پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیاجس کو سویداپترا(پسینہ سے سینچے گئے تلنگانہ کے دستاویز) نام دیاگیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں نئی حکومت نے جان بوجھ کر کے سی آر کی قیادت والی بی آر ایس پارٹی اور انتظامیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے عوام میں غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔

 قانون ساز اسمبلی میں بی آرایس کے لیڈروں جگدیشور ریڈی، ہریش راؤکوبی آرایس پر لگائے گئے الزامات پر اظہارخیال کا موقع نہیں دیاگیا ہے۔حکومت نے اسمبلی میں وائٹ پیپر پیش کرتے ہوئے جلد بازی میں کارروائی کو ملتوی کردیا۔

انہوں نے کہاکہ گذشتہ د س سال کی حکمرانی میں اُس وقت کی حکومت پر جو الزامات لگائے گئے، ان کا جواب دینے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔اسی لئے یہ پاورپوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیاگیا ہے۔ 10 سال کی محنت کے بعد، نہ صرف وزراء، ایم ایل ایز اور وزیراعلیٰ بلکہ لاکھوں ملازمین اور کروڑوں افرادنے اپنے پسینے اور مشقت سے اس ریاست کی ترقی میں اپنا کردار نبھایا۔

 بی آرایس نے تباہی اوربحران سے ترقی کی سمت سفر کو مکمل کیا۔ خوشحالی کا یہ سفرنئی ریاست میں جاری رہا، نئی ریاست میں پچھلے دس سالوں میں جو بھی ترقی ہوئی ہے، یہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ متحدہ ریاست کے 60 سال حکومت میں تباہی دیکھی گئی تھی جس کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے۔ ہمارا تلنگانہ ان کے امتیازی سلوک کی وجہ سے تباہ ہوا۔