حیدرآباد میں فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزی پر بنٹیا شوروم کو مہربند کردیا گیا
مزید جانچ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شوروم کے پاس نہ تو باقاعدہ بلڈنگ اجازت نامہ موجود تھا اور نہ ہی فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ (فائر این او سی) حاصل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ عمارت میں خودکار واٹر اسپرنکلرز، اسموک ڈیٹیکٹرز اور آگ بجھانے کے بنیادی آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔
حیدرآباد: شہر میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر فائر سیفٹی سے متعلق خصوصی جانچ مہم دوسرے روز بھی جمعہ کو جاری رہی۔
اس دوران جی ایچ ایم سی، حائیڈرا، فائر بریگیڈ اور محکمۂ بجلی کے عہدیداروں نے مشترکہ طور پر اچانک معائنہ کرتے ہوئے بنٹیا شوروم میں فائر سیفٹی کی سنگین خلاف ورزیاں بے نقاب کیں، جس کے بعد شوروم کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق معائنہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بنٹیا شوروم میں عمارت کے سیلر کو غیر قانونی طور پر گودام میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جہاں بڑی مقدار میں کیمیکل، پینٹ کے ڈبے، فرنیچر تیار کرنے کا سامان اور دیگر آتش گیر مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس صورتحال کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا تھا۔
مزید جانچ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شوروم کے پاس نہ تو باقاعدہ بلڈنگ اجازت نامہ موجود تھا اور نہ ہی فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ (فائر این او سی) حاصل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ عمارت میں خودکار واٹر اسپرنکلرز، اسموک ڈیٹیکٹرز اور آگ بجھانے کے بنیادی آلات بھی دستیاب نہیں تھے۔
ان سنگین خامیوں کو دیکھتے ہوئے حکام نے ناگول (اُپل)میں بنٹیا شوروم کو سیل کر دیا اور احاطے کے اطراف رکاوٹیں نصب کر دیں۔ ساتھ ہی شوروم کے باہر واضح بورڈز بھی لگائے گئے، جن پر درج ہے کہ یہ مقام فائر سیفٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ ہے۔
HYDRAA حکام نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ شورومز کو گوداموں میں تبدیل کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گودام الگ مقامات پر قائم کیے جائیں جبکہ شورومز کو صرف فرنیچر کی نمائش اور فروخت تک محدود رکھا جائے۔ حکام نے خبردار کیا کہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی جاری رہے گی۔