آندھرا پردیش میں راشن کارڈ صارفین کو بڑا جھٹکا: سروس چارجس میں بھاری اضافہ
حکومت کے تازہ ترین احکامات کے مطابق نئے کارڈ کے لئے درخواست دینے، ڈپلیکیٹ کارڈ حاصل کرنے، کارڈ میں نئے اراکین کے نام شامل کرنے یا ہٹانے، تفصیلات میں درستگی، پتہ کی تبدیلی اور کارڈ کی تقسیم جیسی تمام خدمات کے لئے اب صارفین کو پہلے سے کہیں زیادہ فیس ادا کرنی ہوگی۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش کی مخلوط حکومت نے ریاست کے راشن کارڈ رکھنے والوں کے لئے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سروس چارجس (خدماتی فیس) میں بھاری اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت کے تازہ ترین احکامات کے مطابق نئے کارڈ کے لئے درخواست دینے، ڈپلیکیٹ کارڈ حاصل کرنے، کارڈ میں نئے اراکین کے نام شامل کرنے یا ہٹانے، تفصیلات میں درستگی، پتہ کی تبدیلی اور کارڈ کی تقسیم جیسی تمام خدمات کے لئے اب صارفین کو پہلے سے کہیں زیادہ فیس ادا کرنی ہوگی۔
یہ بڑھی ہوئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل کر دی گئی ہیں۔
جن خدمات کے لئے پہلے 24روپے ادا کرنے پڑتے تھے، انہیں بڑھا کر اب 100 روپے کر دیا گیا ہے۔
کارڈ کی تقسیم کی فیس جو پہلے 48روپے تھی، اب بڑھ کر 200 روپئے ہو گئی ہے۔
یہ تمام خدمات می سیوا ،گرام وارڈ سکریٹریٹ، سٹیزن پورٹل اور واٹس ایپ گورننس کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ کارڈ میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے لئے بھی اتنی زیادہ فیس وصول کرنا غریب خاندانوں پر اضافی بوجھ ہے۔
دوسری جانب، حکومت نے راشن کے نظام میں کئی اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ ریاست کے تمام مستحقین کو کیو آرکوڈ والے نئے کارڈز مفت تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ حکومت نے گھر گھر راشن پہنچانے والی گاڑیوں کی سہولت ختم کر دی ہے تاہم بزرگ شہریوں کے لئے راشن ڈیلرس اب بھی گھر جا کر سامان پہنچائیں گے جبکہ دیگر افراد کو راشن کی دکانوں پر جا کر اشیاء لینی ہوں گی۔
راشن کی فراہمی کے سلسلہ میں ایک مثبت قدم یہ اٹھایا گیا ہے کہ اب چاول اور شکر کے ساتھ ساتھ راگی، جوار اور گیہوں کا آٹا بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر گیہوں کا آٹا، جس کی مارکٹ قیمت 70 روپے فی کلو ہے، حکومت صرف 20روپے فی کلو کے حساب سے فراہم کر رہی ہے۔