تلنگانہ

نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ

ضلعوں کی تنظیمِ نو کے نام پر نارائن پیٹ ضلع کو ختم کیے جانے کی افواہوں پر بی جے پی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ محبوب نگر محترمہ ڈی کے ارونا نے واضح کیا کہ اگر نارائن پیٹ کو ضلع ہیڈکوارٹر کے درجے سے ہٹانے کی کوئی کوشش کی گئی تو بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی اور اسے ہر قیمت پر روکا جائے گا۔

نارائن پیٹ: ضلعوں کی تنظیمِ نو کے نام پر نارائن پیٹ ضلع کو ختم کیے جانے کی افواہوں پر بی جے پی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ محبوب نگر محترمہ ڈی کے ارونا نے واضح کیا کہ اگر نارائن پیٹ کو ضلع ہیڈکوارٹر کے درجے سے ہٹانے کی کوئی کوشش کی گئی تو بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی اور اسے ہر قیمت پر روکا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا

نارائن پیٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی کے ارونا نے کہا کہ نارائن پیٹ کو ضلع کی حیثیت سے برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کی جائے گی اور بی جے پی ہی میں یہ طاقت موجود ہے کہ وہ اس فیصلے کو ناکام بنائے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کسی بھی وقت جاری ہو سکتا ہے اور عوام کو چاہیے کہ وہ بی جے پی کو کامیاب بنائیں۔

انہوں نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں تک بی آر ایس حکومت اقتدار میں رہی اور کانگریس کو اقتدار سنبھالے ہوئے دو سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر بدعنوانی کے خاتمے اور ترقی کے جو وعدے کیے گئے تھے وہ اب تک پورے نہیں ہوئے۔ تبدیلی کے نام پر بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی، لیکن زمینی سطح پر عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

ڈی کے ارونا نے کہا کہ سونیا گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر چھ گارنٹیوں کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا، مگر آج تک ایک بھی وعدہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو مفت بس سہولت تو دی جا رہی ہے، مگر مردوں سے دوگنا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ خواتین کو 2500 روپے مالی امداد اور بزرگوں، معذوروں و بیوہ خواتین کی پنشن میں اضافے کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات قریب آتے ہی وزراء اور اراکینِ اسمبلی محض رسمی سنگ بنیاد رکھ کر چلے جا رہے ہیں، جبکہ بلدیات کو تاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ سینکڑوں کروڑ روپے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں، مگر عملی طور پر ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہے۔

ڈی کے ارونا نے مرکز کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکیموں کے فنڈز کو ریاستی حکومت کی جانب سے اپنے کھاتے میں ڈال کر غلط تشہیر کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ امرت اسکیم کے تحت مرکز اپنا حصہ بروقت ادا کرتا ہے، مگر ریاستی حکومت کی جانب سے تعاون نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت رکنِ پارلیمنٹ انہیں نہ تو پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی افتتاحی پروگرام کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔ مرکز کے فنڈز کو ریاستی فنڈز قرار دے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں ڈی کے ارونا کے ہمراہ رتنگ پانڈو ریڈی، ستیہ یادو ایڈوکیٹ (ضلع صدر بی جے پی)، رگھورامیہ گوڈ، پوشل وینود (ٹاؤن صدر)، رگھوویر یادو ایڈوکیٹ، محبوب علی اور سابق ضلع صدر نرسملو موجود تھے۔

آخر میں ڈی کے ارونا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں اور نارائن پیٹ کی ترقی و خوشحالی کے لیے بی جے پی کو ووٹ دیں، تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔