امریکہ و کینیڈا

برطانیہ کا ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ معاہدے پر دستخط سے صاف انکار

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں روس کی ممکنہ شمولیت پر برطانیہ کوسنجیدہ تحفظات ہیں۔

لندن: برطانیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ ‘بورڈ آف پیس’ نامی عالمی امن معاہدے پر فی الحال دستخط نہیں کرے گا۔

متعلقہ خبریں
ٹرمپ کی ریلی میں پھر سکیورٹی کی ناکامی، مشتبہ شخص میڈیا گیلری میں گھس گیا (ویڈیو)
برطانیہ کے بادشاہ چارلس بیمار اسپتال میں داخل کیا جائے گا
ڈونالڈ ٹرمپ کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا
کملاہیرس اور ٹرمپ میں کانٹے کی ٹکر متوقع
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی


غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں روس کی ممکنہ شمولیت پر برطانیہ کوسنجیدہ تحفظات ہیں۔


سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یوویٹ کوپر نے کہا کہ ہم آج اس معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ ایک قانونی نوعیت کا معاہدہ ہے جو کئی وسیع اور حساس پہلوؤں کو جنم دیتا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کسی ایسے فورم کا حصہ ہوں جو امن کی بات کر رہا ہو۔


برطانوی وزیرِ خارجہ کے مطابق یوکرین جنگ اور دیگر عالمی تنازعات کے تناظر میں روس کا کردار انتہائی متنازع رہا ہے اور ایسے میں ماسکو کو کسی عالمی امن اقدام میں مرکزی حیثیت دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔


واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازعات کے حل کے لیے نئی عالمی تنظیم ‘بورڈ آف پیس’ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔


مذکورہ منصوبہ ایک مجوزہ عالمی فریم ورک ہے، جس کا مقصد مختلف بین الاقوامی تنازعات کو مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے حل کرنا بتایا جا رہا ہے۔


اس بورڈ آف پیس منصوبے کے تحت دنیا کے بڑے ممالک کو ایک قانونی معاہدے کے ذریعے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


رپورٹ کے مطابق اگرچہ بعض ممالک اس معاہدے پر دستخط کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ مزید تفصیلات قانونی نکات اور روس کے کردار پر وضاحت کے بغیر کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بن سکتے۔