کرناٹک

بیلگاوی میں اَکھنڈ ہندو سمیلن کے دوران مبینہ اشتعال انگیزی، سات افراد کے خلاف مقدمہ درج

بیلگاوی میں منعقدہ اَکھنڈ ہندو سمیلن کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز حرکات اور تقاریر کے معاملے میں بیلگاوی رورل پولیس نے ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بیلگاوی میں منعقدہ اَکھنڈ ہندو سمیلن کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز حرکات اور تقاریر کے معاملے میں بیلگاوی رورل پولیس نے ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی مقامی شکایت اور سرکاری پولیس ایکشن کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔ اس واقعہ نے کرناٹک کے سرحدی ضلع بیلگاوی میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
فوج میں بھرتی کے امتحان میں بار بار ناکامی سے دلبرداشتہ نوجوان نے کی یہ حرکت
وزیراعظم مودی کے ہاتھوں شیوموگہ ایرپورٹ کا افتتاح

اَکھنڈ ہندو سمیلن میں کیا ہوا؟

پولیس شکایت کے مطابق یہ واقعہ 18 جنوری 2026 کو مچھے گاؤں میں منعقدہ اَکھنڈ ہندو سمیلن کے دوران پیش آیا۔ الزام ہے کہ:

  • گاؤں سے گزرنے والے جلوس میں اشتعال انگیز اشارے اور تقاریر کی گئیں
  • پیران واڑی حدود میں واقع انصاری درگاہ کے قریب ایک علامتی تیر چلانے جیسا اشارہ کیا گیا
  • مقامی لوگوں نے اسے ایک مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا
  • پہلے سے حساس علاقے میں اس عمل سے خوف اور بے چینی پیدا ہوئی

مقامی شکایت کے بعد ایف آئی آر درج

یہ مقدمہ مقامی رہائشی عبدالخادر مجاور کی باضابطہ شکایت پر درج کیا گیا۔ پولیس نے سات افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا، جن میں شامل ہیں:

  • مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا
  • برادریوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینا
  • غیر قانونی اجتماع
  • عوامی امن میں خلل ڈالنا

تحقیقات بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت جاری ہیں، جبکہ ضابطہ جاتی جانچ BNSS دفعہ 173 کے تحت کی جا رہی ہے۔

ملزمان کون ہیں؟

ایف آئی آر میں نامزد افراد میں ہرشیتا ٹھاکر سمیت دیگر شامل ہیں:

  • سپریت سمپی
  • شری کانت کمبلے
  • بٹاپا تاریہل
  • گنگارام تاریہل
  • شواجی شاہاپورکر
  • ملپا

پولیس کے مطابق:

  • بغیر اجازت بینرز اور ایونٹ سیٹ اپ لگائے گئے
  • حساس قرار دیے گئے علاقے میں سرگرمیاں جاری رکھی گئیں

تاحال گرفتاریاں نہیں، مگر تحقیقات تیز

ابھی تک:

  • کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی
  • پولیس ویڈیوز، سوشل میڈیا کلپس اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ نیت اور اثرات فیصلہ کن ہوں گے، اور اگر دانستہ اشتعال انگیزی ثابت ہوئی تو آئندہ دنوں میں گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔

سرحدی حساس ضلع بیلگاوی الرٹ پر

بیلگاوی کرناٹک-مہاراشٹر سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی یہاں کشیدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایف آئی آر کے بعد:

  • اضافی پولیس گشت تعینات کی گئی
  • انٹیلی جنس یونٹس زمینی اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں
  • حکام کے مطابق تاحال کوئی بڑا بگاڑ سامنے نہیں آیا

آزادیِ اظہار یا اشتعال انگیزی؟ رائے منقسم

اس معاملے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے:

  • حامی اسے آزادیِ اظہار قرار دے رہے ہیں
  • ناقدین کے مطابق یہ فرقہ وارانہ اشتعال کی کوشش ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ثبوتوں کی بنیاد پر ہوں گی، آرا کی بنیاد پر نہیں۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

بیلگاوی میں درج یہ ایف آئی آر محض ایک تقریب تک محدود نہیں۔ یہ اس نازک حد کو نمایاں کرتی ہے جو:

  • اظہار اور اشتعال
  • عقیدے اور اشتعال انگیزی
  • اجتماع کے حق اور عوامی نظم

کے درمیان پائی جاتی ہے۔ حساس علاقوں میں علامتی حرکات بھی حقیقی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، اسی لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی ناگزیر ہے۔

خلاصہ یہ کہ بیلگاوی کا یہ معاملہ عوامی پلیٹ فارمز کے ساتھ جڑی ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے۔ اب یہ تحقیقات کے نتائج، نیت اور شواہد ہیں جو آئندہ کارروائی کا تعین کریں گے۔
Munsif News 24×7 اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور آئندہ پیش رفت سے آگاہ کرتا رہے گا۔