تلنگانہ

گاڑیوں کوفٹنس سرٹیفکیٹ اب کمپیوٹر دے گا

تلنگانہ حکومت ریاست میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور سڑک حادثات پر قابو پانے پرانی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سڑکوں پر دوڑتی کھٹارا اور غیر معیاری گاڑیاں ماحولیاتی بگاڑ اور حادثات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت ریاست میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور سڑک حادثات پر قابو پانے پرانی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سڑکوں پر دوڑتی کھٹارا اور غیر معیاری گاڑیاں ماحولیاتی بگاڑ اور حادثات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
فلم ”گیم چینجر“کے اضافی شوز اور ٹکٹ قیمتوں میں اضافہ کی اجازت سے حکومت دستبردار، احکام جاری
پرجاوانی پروگرام کی تاریخ تبدیل
سلائی مشینوں کی تقسیم، اہل عیسائی خواتین سے درخواستیں مطلوب
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
وزیر سیتا اکا نے بھگدڑواقعہ میں زخمی لڑکے سری تیج کی عیادت کی

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ نے گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے روایتی طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


اب مینول معائنے کے بجائے جدید ٹکنالوجی پر مبنی خودکار نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔


اس نئے منصوبہ کے تحت ریاست بھر میں 37 خودکار ٹسٹنگ اسٹیشنس قائم کئے جائیں گے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ہر ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں کم از کم ایک ایسا اسٹیشن موجود ہو جبکہ حیدرآباد میٹروپولیٹن ریجن میں گاڑیوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر اضافی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

اس بڑے پراجکٹ کے لئے حکومت نے تقریباً 296 کروڑ روپے کے بھاری فنڈس منظور کئے ہیں اور محکمہ عمارات وشوارع کے زیرِ نگرانی جلد ہی ٹنڈرس کا عمل مکمل کر کے تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے گا۔


نئے نظام کے نفاذ کے بعد گاڑیوں کے لئے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا لیکن اس کا عمل پہلے سے مختلف ہوگا۔ اب تک موٹر وہیکل انسپکٹرس کے ذریعہ کیے جانے والے معائنے پر کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں اور الزامات تھے کہ مکمل جانچ کے بغیر ہی سرٹیفکیٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔

اب گاڑی مالکان کو پہلے آن لائن فیس جمع کروا کر سلاٹ بک کرنا ہوگا جس کے بعد گاڑی کو ٹسٹنگ اسٹیشن لے جایا جائے گا۔

وہاں جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینوں کے ذریعہ گاڑی کے ہر حصہ کی جانچ ہوگی اور اگر گاڑی تمام معیارات پر پوری اتری تو کمپیوٹر خود بخود فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کر دے گا۔

اس سے نہ صرف انسانی مداخلت کم ہوگی بلکہ شفافیت میں اضافہ ہوگا اور سڑکوں پر صرف وہی گاڑیاں چل سکیں گی جو تکنیکی طور پر محفوظ اور ماحول دوست ہوں۔