دہلی

مدھیہ پردیش میں 2فوجی جوانوں پر حملہ اور ساتھی کی عصمت ریزی واقعہ کی مذمت

لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے مدھیہ پردیش میں 2 فوجی عہدیداروں پر حملہ اور ان کی 2 خاتون دوستوں میں سے ایک کی عصمت ریزی پر بی جے پی کو نشانہ تنقید بنایا۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے مدھیہ پردیش میں 2 فوجی عہدیداروں پر حملہ اور ان کی 2 خاتون دوستوں میں سے ایک کی عصمت ریزی پر بی جے پی کو نشانہ تنقید بنایا۔

متعلقہ خبریں
’محرم جلوسوں میں فلسطینی پرچم لہرانے والوں کے خلاف کیسس واپس لئے جائیں‘
راہول اور پرینکا کا كل دوره وائناڈ
گوالیار کی شاہی ریاست نے انگریزوں کی حمایت کی تھی:پون کھیڑا
ٹاملناڈو ٹرین حادثہ، مرکز پر راہول گاندھی کی تنقید
اتم کمار ریڈی سے راہول گاندھی کا اظہار تعزیت

سابق کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کی زیراقتدار ریاستوں میں نظم وضبط کا کوئی وجود نہیں۔ انہو ں نے کہا کہ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے تئیں بی جے پی حکومت کامنفی رویہ انتہائی پریشان کن ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے بھی بی جے پی پر تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم‘ خواتین کی حفاظت و سلامتی کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ملک کی خواتین اپنی حفاظت و سلامتی کے لئے ایک سنجیدہ کوشش کی ہنوز منتظر ہیں۔

راہول گاندھی نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ مدھیہ پردیش میں 2 فوجی جوانوں پر تشدد اور ان کی ایک ساتھی کی عصمت ریزی پورے سماج کو شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں نظم وضبط کا تقریباً کوئی وجود نہیں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے تئیں بی جے پی حکومت کا منفی رویہ انتہائی پریشان کن ہے۔

مجرموں کی یہ جرأت‘انتظامیہ کی مکمل ناکامی اور ملک میں موجود غیرمحفوظ ماحول کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی بیٹیوں کی آزادی اور امنگوں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ سماج اور حکومت دونوں کو شرمسار ہونا چاہئے اور سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ وہ لوگ ملک کی نصف آبادی کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سے کب تک منہ موڑتے رہیں گے۔

پرینکا گاندھی نے ایکس پر اپنے پوسٹ میں کہا کہ مدھیہ پردیش میں فوجی عہدیداروں کو یرغمالی بنانے کے بعد ایک خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ اور اترپردیش میں ہائی وے پر ایک خاتون کی برہنہ نعش کا ملنا دل سوز واقعات ہیں۔ ملک میں ہر روز 86 خواتین عصمت ریزی اور بربریت کا شکا رہورہی ہیں۔

گھر سے باہر‘ سڑک سے دفتر تک خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ملک کی نصف آبادی نہ صرف غیرمحفوظ ہے بلکہ ایسی بربریت کی وجہ سے ہر روزکروڑوں خواتین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ وزیراعظم‘ خواتین کی حفاظت و سلامتی کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ملک ان کی حفاظت و سلامتی کے لئے ایک سنجیدہ کوشش کا ہنوز منتظر ہے۔

یہ انتظار کب ختم ہوگا؟۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں چہارشنبہ کے روز مردوں کے ایک گروپ نے 2 فوجی جوانوں اور ان کی 2 خاتون ساتھیوں پر جو پکنک منانے گئے تھے‘ حملہ کردیا اور ان میں سے ایک کی اجتماعی عصمت ریزی بھی کی۔