تلنگانہ

کانگریس حکومت کے سرمایہ کاری کے دعوے جھوٹے اور من گھڑت: کلواکنٹلہ کویتا

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے حصول سے متعلق کیے جا رہے تمام دعوے جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں سرمایہ کاری کے حصول سے متعلق کیے جا رہے تمام دعوے جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ وہ بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی کے دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ حکومت جن ہزاروں کروڑ روپے کے ایم او یوز کا دعویٰ کر رہی ہے، ان میں شامل متعدد کمپنیوں کی نہ تو کوئی مستند ویب سائٹ موجود ہے اور نہ ہی ان کی کاروباری سرگرمیوں کا کوئی واضح ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران کئی ایسی کمپنیوں کی حقیقت سامنے آئی ہے جن کے وجود اور صلاحیت پر سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ “کانگریس فیک ایم او یوز” کے ہیش ٹیگ کے تحت ایک مضبوط عوامی تحریک شروع کریں تاکہ سچ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔

انہوں نے حیدرآباد میں آتشزدگی کے مسلسل واقعات اور جرائم میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پیش آنے والے متعدد آتشزدگی کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، مگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے نہ تعزیت پیش کی گئی اور نہ ہی سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں حیدرآباد میں 69 قتل اور 176 اقدامِ قتل کے واقعات پیش آئے، خواتین کے تحفظ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور گن کلچر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کلواکنٹلہ کویتا نے ایکسائز کانسٹیبل سومیا پر حملے اور دیگر سنگین واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر بھی حکومت کی خاموشی قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکسائز اور فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے عملے کو مناسب ہتھیار فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی ڈیوٹی محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کے ٹی راما راؤ کی جانب سے یہ کہنا کہ امیدوار اچھا ہو یا برا، صرف کے سی آر کو دیکھ کر ووٹ دیا جائے، دراصل آمرانہ اور شاہانہ طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ووٹ ذات، مذہب، رشتہ داری یا پیسے کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت، دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کو دیکھ کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے امیدواروں کو منتخب کریں جو مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ وہ جو صرف پیسے مانگنے کے عادی ہوں۔

صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ تنظیم کی جانب سے بعض مقامات پر آل انڈیا فارورڈ بلاک پارٹی کے امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں اور یہ تمام امیدوار اہل اور قابل ہیں، اس لیے عوام انہیں ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔ انہوں نے مرکزی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ایک بار پھر تلنگانہ کے عوام کو بری طرح مایوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تلگو گھرانے کی بہو ہیں، مگر اس کے باوجود تلنگانہ کو بجٹ میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کے لیے 53 لاکھ کروڑ روپے کے کل بجٹ میں ایک فیصد بھی مختص نہ کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ تقسیمِ ریاست کے وعدے بارہ برس گزرنے کے باوجود آج بھی التوا کا شکار ہیں۔ ریاستی حکومت نے مرکز کے سامنے 47 نکات پر مطالبات رکھے تھے، مگر ایک بھی منظور نہیں کیا گیا۔ اربن ڈیولپمنٹ، ریجنل رنگ روڈ، میٹرو مرحلہ دوم، آئی آئی ایم، نوودیہ، کیندریہ ودیالیہ، بیارم اسٹیل فیکٹری اور کوچ فیکٹری جیسے اہم منصوبوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

انہوں نے مرکزی وزیر کشن ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ میٹرو مرحلہ اول کی رپورٹ نہ دینے کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ جب بجٹ میں رقم ہی مختص نہ ہو تو رپورٹ دینے کا جواز کہاں بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی تیس مرتبہ دہلی جا کر وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں، مگر اس کے باوجود تلنگانہ کے لیے تیس ہزار کروڑ روپے بھی نہیں لا سکے، جو وفاقی نظام کے بالکل منافی ہے۔

سرمایہ کاری کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ٹرمپ میڈیا ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس کمپنی کی کل مارکیٹ ویلیو ہی تقریباً تیس ہزار کروڑ روپے ہے۔ اسی طرح دیگر کئی کمپنیوں کے بارے میں بھی دعوے کیے جا رہے ہیں جن کا یا تو کوئی وجود ہی نہیں یا وہ محض ایم او یوز کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی ان تمام کمپنیوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کرے گی تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر واقعی سرمایہ کاری آئی ہے تو حکومت واضح کرے کہ کتنی سرمایہ کاری آئی، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا اور مستقبل میں کتنی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی آئندہ بھی عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور 20 فروری کے بعد جنم باٹا پروگرام کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر کلواکنٹلہ کویتا نے فون ٹیپنگ کیس میں شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت اس معاملے میں میچ فکسنگ کر رہی ہے، اسی لیے تحقیقات کو طول دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس کی واقعی نیت صاف ہوتی تو دو برسوں سے یہ کیس آگے کیوں نہیں بڑھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بی آر ایس اپنی شاہانہ اور آمرانہ سوچ میں تبدیلی نہیں لاتی تو کوئی بھی اسے بچا نہیں سکے گا۔