حیدرآباد

کانگریس کا مجلس کے ساتھ باقاعدہ سیاسی اتحاد نہیں: میناکشی نٹراجن

حیدرآباد کے کانگریس قائدین، بشمول فیروز خان اور سابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہرالدین، نے یہ مسئلہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ مجلس کو حکومت کے معاملات میں ترجیح دی جا رہی ہے۔

حیدرآباد: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے اپنے پارٹی عہدیداروں پر واضح کیا کہ کانگریس کا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ ”کوئی باقاعدہ سیاسی اتحاد” نہیں ہے، اور یہ واضح کیا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان کسی بھی تعاون کا تعلق صرف مسائل کی بنیاد پر ہے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

انہوں نے یہ بات پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کے دوران کہی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، نٹراجن نے کانگریس کا موقف واضح کیا جب مقامی رہنماؤں نے مجلس  کے قائدین کو حکومت کے معاملات میں ترجیح دینے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

 نٹراجن  نے کہا کہ یہ موقف پارٹی کی مرکزی قیادت، بشمول راہول گاندھی کی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ حیدرآباد کے کانگریس قائدین، بشمول فیروز خان اور سابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہرالدین، نے یہ مسئلہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ مجلس کو حکومت کے معاملات میں ترجیح دی جا رہی ہے۔

 جبکہ کانگریس کے دیرینہ کارکنوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جنہوں نے حالیہ انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پر نٹراجن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس بعض پالیسی مسائل پر مجلس کے ساتھ تعاون کر سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی سیاسی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل پر تعاون کو کسی بھی صورت میں شراکت داری کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔