حیدرآباد

سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر کانگریس کا اچانک احتجاج، کئی قائدین گرفتار

-کانگریس قائدین کے مطابق، ریلوے حکام کی جانب سے خصوصی ٹرینوں کی درخواست کو منظوری نہیں دی گئی، جس کے خلاف قائدین اور کارکنوں نے دھرنا دیا۔

حیدرآباد  : تلنگانہ کانگریس کے قائدین اور کارکنوں نے 28 اکتوبر کو سکندرآباد میں واقع ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے جنرل منیجر کے دفتر کے باہر اچانک احتجاج کیا۔ کانگریس قائدین کا الزام ہے کہ یکم نومبر کو دہلی میں ہونے والی ریلی میں شرکت کے لیے پارٹی کارکنوں کو خصوصی ٹرینیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

-احتجاج کی قیادت تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے کی۔ وزیر پونم پربھاکر، ارکان اسمبلی نوین یادو اور سری گنیش سمیت دیگر قائدین بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔

کانگریس نے تلنگانہ سے نئی دہلی کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانے کا مطالبہ کیا تاکہ کارکن یکم نومبر کی ریلی میں شرکت کرسکیں۔

-کانگریس قائدین کے مطابق، ریلوے حکام کی جانب سے خصوصی ٹرینوں کی درخواست کو منظوری نہیں دی گئی، جس کے خلاف قائدین اور کارکنوں نے دھرنا دیا۔

مظاہرین نے ٹرینوں کی فراہمی اور اپنے مطالبات کی منظوری کے حق میں نعرے لگائے۔ احتجاج کے بعد پولیس نے کئی قائدین اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

دہلی میں یکم نومبر کو ’ووٹ بچاؤ مہا ریلی‘

کانگریس اور انڈیا بلاک کی جانب سے یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ مہا ریلی‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ریلی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR)، جمہوری اداروں اور مرکزی حکومت سے متعلق امور کو اٹھایا جائے گا۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے مطابق، ریاست سے تقریباً 10 ہزار سے 15 ہزار کانگریس کارکنوں کی دہلی روانگی متوقع ہے۔

کانگریس قائدین نے مرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی ٹرینوں کی اجازت دی جائے تاکہ کارکن آسانی سے دہلی پہنچ سکیں۔