حیدرآباد

کانگریس کی عوامی حکمرانی ترقی کے بجائے زوال پذیر ہوچکی ہے: کے ٹی آر

 انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر حکومت کے 10 سالہ دور میں ختم ہو چکے بورویلز، کانگریس کے محض 15 ماہ کی ناقص حکمرانی کی وجہ سے دوبارہ نظر آ رہے ہیں، کیونکہ دیہاتوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پھر سے بورویلز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار  صدر کے ٹی آر نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "اندرماں راج میں تلنگانہ مشکلات میں گھر چکا ہے۔ عوامی حکمرانی ترقی کے بجائے زوال پذیر ہو چکی ہے۔ آبپاشی کا پانی بند ہو گیا ہے اور زراعت بُری طرح متاثر ہو چکی ہے۔”

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
کانگریس حکومت چھ ضمانتوں کو نافذ کرنے میں ناکام : فراست علی باقری
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے 15 ماہ کے اقتدار میں سرسبز کھیت تباہ ہو چکے ہیں، اور کسانوں کی کھڑی فصلیں مویشیوں کے چارے میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

 انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر حکومت کے 10 سالہ دور میں ختم ہو چکے بورویلز، کانگریس کے محض 15 ماہ کی ناقص حکمرانی کی وجہ سے دوبارہ نظر آ رہے ہیں، کیونکہ دیہاتوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پھر سے بورویلز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے سی آر کے دور حکومت میں "مشن بھگیرتا” کے ذریعہ گھروں تک فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی اب دوبارہ بورویلز، کنووں اور ٹینکروں پر منحصر ہو گیا ہے، اور خواتین پانی کے لیے ترس رہی ہیں۔

 کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر حکومت کے دوران جو تالاب، جھیلیں اور چیک ڈیمز گرمیوں میں بھی پانی سے لبریز رہتے تھے، وہ اب کانگریس کی کسان مخالف پالیسیوں کے باعث خشک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فطری قحط سالی نہیں بلکہ کانگریس کی ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے کسان مشکلات کا شکار ہیں اور کھیت بنجر ہو رہے ہیں۔