مہاراشٹرا

پرنسپل اور اساتذہ کے ذریعہ مسلما ن ہونے کا طعنہ دےکر جسمانی و ذہنی اذیت دیئے جانے سے دل شکستہ طالب علم کی خودکشی

" تم مسلمان حرام خور ہو اور مسلمانوں کے بچے ہمارے اسکول میں نہیں ہونے چاہئے۔" پرنسپل

” تم مسلمان حرام خور ہو اور مسلمانوں کے بچے ہمارے اسکول میں نہیں ہونے چاہئے۔” پرنسپل

متعلقہ خبریں
ممبئی سمیت مہاراشٹر میں پانچویں اور آخری مرحلے کیلئے انتخابی مہم ختم
گجرات کی 25 سیٹوں پر انتخابی مہم کا شور ختم
راج ٹھاکرے کی تصویر پر مہاراشٹر میں نیا تنازعہ
مہاراشٹرا میں دستانے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 13 مزدور ہلاک
چار سالہ لڑکی کو مسلسل اذیت دینے پر باپ اور 2 چاچاؤں کے خلاف کیس درج

اکولہ: مہاراشٹرا کے اکولہ ضلع کے ایک اسکول میں پرنسپل دو اساتذہ اور دیگر دو افراد کی جانب سے ہراساں اور پریشان کر کے جسمانی و ذہنی اذیت دیئے جانے سے دل شکستہ ہو کر خودکشی کرنے والے ایک طالب علم التمش بیگ کے والد کی شکایت پر ٹال مٹول کے بعد بالاخر 14 دنوں بعد 5 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے

ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق ، پرنسپل سمیت دو اساتذہ اور ایک طالبہ کے والدین کی جانب سے التمش بیگ کے ساتھ نہ صرف مارپیٹ کی گئی بلکہ اسےمسلمان ہونےکا طعنہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ” تم مسلمان حرام خور ہو ۔۔ اور مسلمانوں کے بچے ہمارے اسکول میں نہیں ہونے چاہئے۔”

تفصیلات کے مطابق 9 مارچ کو اکولہ کے سندھی کیمپ علاقہ میں واقع گرو نانک ودیالیہ کے نویں جماعت میں پڑھنے والے 15 سالہ طالب علم التمش بیگ نے اپنے گھر میں خودکشی کرلی۔

التمش کے والد نے اکولہ کے کھڈان تھانے میں شکایت درج کرائی تھی، شکایت درج کیے جانے کے 14 دن بعد 22 مارچ کو گرو نانک ودیالیہ کے استاد سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

التمش بیگ کے والد عمران بیگ افسر بیگ کی جانب سے ایف آئی آر میں مزیدکہا گیا ہے کہ "مجھے اسی اسکول کی 7ویں جماعت میں پڑھنے والی ایک لڑکی اکشرا سوروڑکر کے والد کا موبائیل پر فون آیا کی اسکول میں آو تمھارے لڑکے نے ہماری لڑکی کو چھیڑا ہے۔

جب ،میں اسکول ہنچا تو پنسپل نے مجھے بتایا کہ تمھارے لڑکے نے ایک لڑکی کو اشارہ کیا ہے۔اس وقت مجھے میرے لڑکے نے بتایا کہ اسے ان پانچوں نے مارا پیٹا ہےا ور دھمکیا ں دی اور کہا کہ تم مسلمان حرام خور ہو اور مسلمانوں کے بچے ہمارے اسکول میں نہیں ہونے چاہئے، تجھے اسکول سےنکال دیں گے۔ فیل کر دیں گے۔

پولیس میں دیے دیں گے۔ جس سے میرا لڑکا گھبرا گیا اورخوف زدہ ہو گیا ۔ جب میں نے اس وقت وہاں موجود لڑکی اکشرا سوروڑکر سے پوچھا کی کیا التمش بیگ نے تمھیں اشارہ کیا ہے تو اس نے کہا کہ نہیں اس نےمجھے کوئی اشارہ نہیں کیا۔ اس وقت پرنشپل نے کہا کہ میں تجھے نہیں چھوڑونگی ، تیرا مستقبل خراب کرونگی اس طرح دھمکی دی۔ جس کے بعد ہمیں جانے کے لیے کہا گیا۔”

اس ضمن میں اکولہ کے ایڈوکیٹ نجیب شیخ نے بتایا کہ التمش خودکشی کیس میں سیاسی اثرورسوخ اور دباو کے ذریعے سے اس معاملے پر پردہ ڈالنے اور ملزموں کو بچانے کی کوشش کی گئی اور پولیس پر دباو بناکر آیف آئی درج کرنے سے روکا گیا۔

تاہم التمش بیگ کے ایل خانہ اور اکولہ شہر میں عوامی احتجاج کے بعد اور اس علاقے کے رفیق صدیقی اور فیاض خان وغیرہ کی کوششوں نیز ایڈووکیٹ نجیب شیخ کی قانونی پیروی کے پیش نظر التمش کی خودکشی کے ملزمان کی کوئی پریشر تکنیک کام نہ آئی۔ اور اس معاملے میں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ نجیب شیخ نے مزید بتایا کہ ، ایف آئی آر کے درج ہوتے ہی تمام ملزمین غائب ہو گئے ہیں، اس ضمن میں ، کھڈان پولیس اسٹیشن کے تھانیدار دھننجے سائرے نے کہا کہ ملزموں کو جلد گرفتار کرکے مزید کارروائی کی جائے گی۔ ایڈوکیٹ نجیب شیخ، نے کہا کہ کہ ہم محکمہ تعلیم سے گرو نانک ودیالیہ کی منظوری منسوخ کرکے اسے بند کرنے کی اپیل کریں گے۔

کیوںکہ اس اسکول کی انتظامیہ منصوبہ بند طریقوں اور بہانوں سے مسلم بچوں کو اس اسکول سےنکال رہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ مسلم بچے ان کے اسکول میں پرھنے کے لیے نہ آئیں۔ اس سے قبل بھی اسی اسکول کی ایک نیوڑ ٹی پر آئی تھی کی بانچوں جماعت کے مسلم بچوں کو اسکول کے باہر کر دیاتھا اور انھیں داخلہ لے کر دوسرے اسکول میں جانے کا کہا گیا تھا۔ اسی ضمن میں 8 اگست 2022 کو ایک تحریری شکایت بھی اس سے قبل محکمہ تعلیمات کو دی جاچکی ہے۔

التمش بیگ کے والد عمران بیگ افسر بیگ کی جانب سے22 مارچ کو درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 0279/2024 کے میں، پرنسپل میرا اہوجہ، گیتا ،شیلیش ، ممنا سرڑکر، اور ایک خاتون جس کا نام ایف آئی آر میں (اکشرا سوروڑکر کی والدہ ) اس طرح درج کیا گیا ہے ،دفعہ 305،294،506،34، اور دفعہ 2015 میں نابالغ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ قانون کی دفعہ 75 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔