حیدرآباد

لڑکیوں کو مہذب لباس زیب تن کرنے محمود علی کے مشورہ پر تنازعہ

وزیر داخلہ محمد محمود علی نے شدید الفاظ میں کالج انتظامیہ کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے خواتین کو مہذب لباس زیب تن کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی کی جانب سے گزشتہ روز لڑکیوں کو مہذب لباس زیب تن کرنے کا مشورہ تنازعہ کی شکل اختیار کرلیا۔ گزشتہ روز آئی ایس سدن کے قریب ایک ویمنس ڈگری کالج میں مسلم لڑکیوں کو برقعہ اتار کر امتحان تحریر کرنے پر مجبور کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

متعلقہ خبریں
فلم ڈبل اسمارٹ کے آئٹم سانگ میں کے سی آر کی آواز کا استعمال۔ ایل بی نگر پولیس میں شکایت
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے شدید الفاظ میں کالج انتظامیہ کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے خواتین کو مہذب لباس زیب تن کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں اور خواتین سے یوروپی طرز لباس کے استعمال کرنے سے گریز کرنے کی خواہش کی تھی۔

ان کے اس بیان نے آزاد خیال قائدین کو سیاست کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ آج نائب صدر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی و سابق رکن اسمبلی کے پرسونا نے وزیر داخلہ کے بیان کو افسوسناک اور خواتین کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کو کیا پہننا ہے اور کیا نہیں اس پر سیاسی قائدین کو درس دینے کی ضرورت نہیں ہے، محمود علی نیاس طرح کا بیان دیتے ہوئے دو طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کو شش قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ سے خواتین سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔

 انہوں نے کہا کہ خواتین اپنی تہذیب و تمدن کے مطابق ملبوسات زیب تن کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ خواتین کو کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے کا درس نہ دیں۔ نائب صدر تلگودیشم نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان سے مرد ہونے کا غرور وتکبرظاہر ہوتا ہے۔