حیدرآباد میں فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات،ایئر کوالٹی انڈیکس 240 تک پہنچ گیا
حیدرآباد میں فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات دیکھے جا رہے ہیں جہاں گزشتہ چند دنوں سے ہوا کے معیار میں مسلسل اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہفتہ کی صبح سکندرآباد کے علاقہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 240 تک پہنچ گیا جسے صحت کے لئے مضر قرار دیا جاتا ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات دیکھے جا رہے ہیں جہاں گزشتہ چند دنوں سے ہوا کے معیار میں مسلسل اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہفتہ کی صبح سکندرآباد کے علاقہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 240 تک پہنچ گیا جسے صحت کے لئے مضر قرار دیا جاتا ہے۔
عام طور پر یہ انڈیکس دو ہندسوں میں ہونا چاہیے لیکن موسم سرما کی کہراور آلودگی کے اجزاء کی وجہ سے اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق شہر میں گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رش سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی کاموں سے اڑنے والی گرد و غبار اور کھلی جگہوں پر کچرا جلانا آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔
اس کے علاوہ سردیوں کی ٹھنڈی ہوا اور کہرآلودہ ذرات کو زمین کے قریب رکھتے ہیں جس سے ہوا کا معیار مزید خراب ہو جاتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ 15 دنوں کے مقابلے میں بعض علاقوں میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے تاہم ڈاکٹروں نے شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین صحت نے خاص طور پر سانس کے امراض، دمہ، سائنوسائٹس اور الرجی میں مبتلا افراد کو باہر نکلتے وقت ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے جبکہ چھوٹے بچوں اور ضعیف افرادکو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صبح سویرے اور رات کے وقت باہر گھومنے سے پرہیز کریں ۔