تلنگانہ

بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا

تلنگانہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے مقصد سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی موبائل ایپ اور ویب پورٹل ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ ایکسچینج آف تلنگانہ (DEET) متعارف کرایا ہے۔ اس بات کا انکشاف ضلع اقلیتی بہبود آفیسر محترمہ آر۔ اندرا نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے کیا۔

محبوب نگر: تلنگانہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے مقصد سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی موبائل ایپ اور ویب پورٹل ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ ایکسچینج آف تلنگانہ (DEET) متعارف کرایا ہے۔ اس بات کا انکشاف ضلع اقلیتی بہبود آفیسر محترمہ آر۔ اندرا نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے کیا۔

متعلقہ خبریں
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا

محترمہ آر۔ اندرا نے بتایا کہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم نوجوانوں کو مختلف آن لائن کمپنیوں اور روزگار فراہم کرنے والے اداروں سے براہِ راست جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا، جس سے ریاست میں بے روزگاری کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے خاص طور پر اقلیتی طبقہ کے بے روزگار نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی اس جدید سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ای ای ٹی موبائل ایپ پر رجسٹریشن کیلئے کسی مخصوص تعلیمی قابلیت کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ ہر طرح کی تعلیمی اور تکنیکی مہارت رکھنے والے امیدوار اس پلیٹ فارم پر اپنی تفصیلات درج کر کے اپنے پسندیدہ پیشہ سے متعلق روزگار کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔

رجسٹریشن کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے اقلیتی بہبود آفیسر نے بتایا کہ خواہشمند نوجوان اپنے موبائل فون میں گوگل پلے اسٹور سے “DEET Telangana” ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے بطور جاب سیکر اپنا رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں۔

محترمہ آر۔ اندرا نے ضلع کی تمام این جی اوز، انجمنوں، ایجنسیوں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بے روزگار نوجوانوں میں اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے بارے میں شعور بیدار کریں اور انہیں روزگار کے مواقع تک پہنچنے میں تعاون کریں، تاکہ نوجوانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکے۔