دہلی

ہنگامہ آرائی کے باعث دہلی اسمبلی کی کارروائی ملتوی

جیسے ہی صبح 11 بجے کارروائی شروع ہوئی، بی جے پی ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور ایوان کے وسط میں آگئے۔ بی جے پی ممبران اسمبلی جس وقت ہنگامہ کررہے تھے، اس وقت اے اے پی کے ارکان ایوان میں نہیں تھے۔

نئی دہلی: دہلی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے جمعرات کو زبردست ہنگامہ کیا اور گرو تیغ بہادر کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔


جیسے ہی صبح 11 بجے کارروائی شروع ہوئی، بی جے پی ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور ایوان کے وسط میں آگئے۔ بی جے پی ممبران اسمبلی جس وقت ہنگامہ کررہے تھے، اس وقت اے اے پی کے ارکان ایوان میں نہیں تھے۔


اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے بار بار بی جے پی ایم ایل ایز سے پرسکون رہنے کی اپیل کی لیکن بی جے پی ایم ایل اے نے ان کی درخواست کو نظر انداز کردیا۔ بی جے پی کے ایم ایل اے نعرے لگا رہے تھے،’’ہم گرووں کی توہین برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

ساتھ ہی شوروغل بھی کررہے تھے۔ جب بی جے پی کے ممبران اسمبلی نعرے لگا رہے تھے اسی وقت اے اے پی کے ممبران اسمبلی ایوان میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’’کپل مشرا استعفیٰ دو‘‘۔

جب دونوں پارٹیوں کے ارکان بار بار کوشش کے باوجود پرسکون نہیں ہوئے تو مسٹر گپتا نے ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔