حیدرآباد

مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

یہ ملاقات Dr. B. R. Ambedkar Telangana State Secretariat میں ہوئی، جہاں وفد نے کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدے کے مطابق اقلیتوں کے لیے مائنارٹی سب پلان نافذ کرنے کے مطالبہ پر ایک یادداشت بھی پیش کی۔

حیدرآباد: ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور مسلم فرنٹ کے ایک وفد نے بدھ کے روز ریاستی سیکریٹریٹ میں کانگریس قائد Mohammed Azharuddin سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں مائنارٹی سب پلان کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔ وفد کی قیادت فرنٹ کے چیئرمین ایم ثناء اللہ خان کر رہے تھے۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ایم آئی ایم پر اظہر الدین کی تنقید
مذہب کے نام پر مسلمانوں کو تحفظات، وزیر اعظم کا الزام گمراہ کن: محمد علی شبیر
روزہ میں کن باتوں سے پرہیز ضروری ہے ؟
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد

یہ ملاقات Dr. B. R. Ambedkar Telangana State Secretariat میں ہوئی، جہاں وفد نے کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدے کے مطابق اقلیتوں کے لیے مائنارٹی سب پلان نافذ کرنے کے مطالبہ پر ایک یادداشت بھی پیش کی۔

وفد کے ارکان نے ریاست میں کانگریس حکومت کو دو سال سے زائد مدت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل مسلم برادری سے مائنارٹی سب پلان نافذ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک اس وعدے پر عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب پلان شیڈیولڈ کاسٹس اسپیشل کمپوننٹ پلان اور قبائلی سب پلان کی طرز پر نافذ کیا جانا تھا تاکہ اقلیتی برادریوں کی سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفد نے کہا کہ مسلمانوں کی بہتری کے لیے مختلف اسکیموں کے اعلانات ضرور کیے گئے، تاہم ان میں سے کئی منصوبے اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ اس موقع پر سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وفد نے کہا کہ ملک کے کئی شعبوں میں مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حالت دیگر طبقات کے مقابلے میں اب بھی پسماندہ ہے۔

وفد کے ارکان نے مزید کہا کہ ماضی میں پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے علاقائی اور ہدفی منصوبے شروع کیے گئے تھے، لیکن سماجی تعصبات اور بیوروکریسی کی بے حسی کے باعث ان کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیڈیولڈ کاسٹس اور قبائلی سب پلان کی طرز پر مائنارٹی سب پلان کو جلد نافذ کیا جائے تاکہ فلاحی اسکیموں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے جیسے صحت، سڑکوں اور آبپاشی کے منصوبوں میں بھی اقلیتوں کو مناسب حصہ مل سکے۔

وفد نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اقلیتی برادریوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے انتخابی وعدے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائے گی۔