حیدرآباد

ذات کی بنیاد پر شادی سے لڑکی کے ارکان خاندان کا انکار اورحملہ، نوجوان کی خودکشی

ذات کی بنیاد پر شادی کرنے سے لڑکی کے ارکان خاندان کے انکار اورحملہ کرنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی۔

حیدرآباد: ذات کی بنیاد پر شادی کرنے سے لڑکی کے ارکان خاندان کے انکار اورحملہ کرنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری

یہ واقعہ شہرحیدرآباد کے کوکٹ پلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔پولیس نے بتایا کہ اس نوجوان کی شناخت 22سالہ سنیل بی کام فائنل ایر کے طالب علم کے طورپر کی گئی ہے،وہ ایک 21سالہ لڑکی سے تین سال سے محبت کرتاتھا۔

سنیل کا تعلق ایس سی طبقہ سے ہے جبکہ لڑکی کا تعلق نائیک طبقہ سے ہے۔شادی کے مسئلہ پر دونوں خاندانوں میں جھگڑے ہورہے تھے۔کل شب نظام پیٹ، کے پی ایچ بی کالونی میں شراب کی دکان کے قریب لڑکی کے رشتہ داروں نے سنیل پر حملہ کردیا۔

سنیل زخمی حالت میں اسپتال پہنچا جہاں پر مرہم پٹی کے بعد وہ گھرپہنچاتاہم گھرکے قریب لڑکی کے چار رشتہ داروں نے پہنچ کر سنیل کو روک کراس کی پٹائی کردی۔

اس حملہ میں سنیل زخمی ہوگیا جس نے پولیس سے اس سلسلہ میں شکایت کی تاہم دوسری طرف لڑکی کے رشتہ داربھی پولیس اسٹیشن پہنچے اورپولیس سے شکایت کی۔

پولیس نے دونوں فریقین کی شکایت درج کرلی۔اس شکایت کے بعد سنیل گھر چلاگیا جس نے صبح میں سل فون میں اپنے بھائی کوپیام روانہ کیا کہ وہ خودکشی کررہا ہے جس کے بعد اس نے ساڑی کی مدد سے پھانسی لے لی۔

پولیس اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچی جس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا اور ایس سی ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرلیا۔