غزہ میں تباہی، اقوامِ متحدہ کا انتباہ: ملبہ ہٹانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق ان متاثرہ ڈھانچوں میں 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس شامل ہیں، جو غزہ کے کل گھروں کا تقریباً 92 فیصد بنتے ہیں
واشنگٹن : غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے درمیان اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہی نے امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے عمل کو غیر معمولی حد تک مشکل بنا دیا ہے، جہاں صرف ملبہ ہٹانے کا مرحلہ ہی کئی سالوں پر محیط ہو سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تباہی کی غیر معمولی سطح انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ادارے کے مطابق ملبے کی مقدار اس قدر زیادہ ہے کہ اسے مکمل طور پر ہٹانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کا دفتر برائے خدماتِ منصوبہ جات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خورخی مورینا دا سلوا نے بتایا کہ غزہ میں ملبے کی مقدار 6 کروڑ ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، اور اس کے مکمل خاتمے میں کم از کم سات سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔ غزہ کے حالیہ دورے کے بعد جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں لوگ شدید تھکن، نفسیاتی صدمے اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ خراب موسم اور موسلا دھار بارشوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 لاکھ افراد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی، ایندھن کی دستیابی اور ملبہ ہٹانے کے منظم عمل کا آغاز شامل ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود ملبہ تقریباً تین ہزار کنٹینر بردار بحری جہازوں کے مجموعی بوجھ کے برابر ہے، جبکہ ہر شہری اوسطاً 30 ٹن ملبے میں گھرا ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق غزہ میں رہائشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو بے مثال نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں تعمیرِ نو کی ضروریات بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کا سیٹلائٹ تجزیاتی پروگرام کے مطابق 8 جولائی 2025 تک غزہ میں 78 فیصد عمارتیں اور تنصیبات تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان متاثرہ ڈھانچوں میں 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس شامل ہیں، جو غزہ کے کل گھروں کا تقریباً 92 فیصد بنتے ہیں۔ اسی طرح 77 فیصد سڑکیں ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ امدادی اداروں کے لیے بھی متاثرہ علاقوں تک رسائی شدید مشکل ہو گئی ہے۔