تلنگانہ

تلنگانہ میں گروکل اسکولوں کی حالت ابتر: ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں گروکل اسکول پورے ملک کے لیے مثالی بن گئے تھے لیکن کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ بدترین حالت میں ہیں۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے سینئر رہنما اورتلنگانہ کے سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے ریاست میں گروکل اسکولوں کی زبوں حالی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کنٹراکٹرس کی ادائیگیاں اور کرایے کی عدم ادائیگی کے باعث خوراک اور یونیفارمس جیسی بنیادی سہولتیں رک چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن میں حصہ نہ لینے بی آر ایس کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ عمارتوں میں چلنے والے گروکل اسکولوں کے کرایے اور زیر التواء بلز کو فوراً جاری کیا جائے۔


ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں گروکل اسکول پورے ملک کے لیے مثالی بن گئے تھے لیکن کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ بدترین حالت میں ہیں۔


ان کے مطابق جنوری سے ادائیگیاں نہ ہونے کے سبب انڈے، گوشت، کیلے جیسی اشیاء کی فراہمی بند ہو چکی ہے
کنٹراکٹرس نے انتباہ دیا ہے کہ اگر یکم جولائی تک واجبات ادا نہ کیے گئے تو وہ تمام تر سپلائی بند کر دیں گے


پچھلے 13 ماہ سے 450 کروڑ روپے سے زائد کرایہ کی ادائیگیاں باقی ہیں.بعض مقامات پر عمارت مالکان نے اسکولوں کو تالا لگا دیا ہے


کئی طلبہ اب تک یونیفارمس، جوتے، بیگ حاصل نہیں کر پائے اور پرانے، پھٹے ہوئے یونیفارم پہننے پر مجبور ہیں
انہوں نے اسے ریونت ریڈی حکومت کی شدید ناکامی قرار دیتے ہوئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تاکہ غریب و پسماندہ طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔