کیا واقعی بیئر گردے کی پتھری کو ختم کر دیتی ہے؟ جانیں ڈاکٹروں کی رائے اور اسلامی نقطۂ نظر
حالیہ برسوں میں گردے کی پتھری کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیٹ کے نچلے حصے میں درد، پیشاب میں جلن اور بار بار پیشاب آنے جیسی علامات ظاہر ہوتے ہی بہت سے لوگ خود ساختہ علاج اور سنی سنائی باتوں پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔
حیدرآباد: حالیہ برسوں میں گردے کی پتھری کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پیٹ کے نچلے حصے میں درد، پیشاب میں جلن اور بار بار پیشاب آنے جیسی علامات ظاہر ہوتے ہی بہت سے لوگ خود ساختہ علاج اور سنی سنائی باتوں پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ انہی غلط فہمیوں میں ایک عام بات یہ بھی ہے کہ بیئر پینے سے گردے کی پتھری ختم ہو جاتی ہے یا پیشاب کے ذریعے باہر نکل جاتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ بیئر پینے سے پیشاب کی مقدار وقتی طور پر بڑھ سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گردے کی پتھری ختم ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت جاننے کے لیے سائنسی اور طبی معلومات کو سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ افواہوں پر عمل کرنا۔
ڈاکٹروں کے مطابق، گردے کی پتھری کے مریض کے لیے سب سے اہم چیز مناسب مقدار میں پانی پینا اور بروقت علاج کروانا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی پتھری کو مزید سخت کر سکتی ہے اور مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین خود علاج کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم پہلو اسلامی نقطۂ نظر بھی ہے۔ اسلام میں شراب اور ہر قسم کی نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ بیئر چونکہ نشہ آور مشروب ہے، اس لیے اسلام میں اس کے استعمال کی اجازت نہیں، چاہے اسے علاج کے نام پر ہی کیوں نہ پیش کیا جائے۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر نشہ آور چیزوں سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف انسان کی عقل کو متاثر کرتی ہیں بلکہ جسمانی اور روحانی نقصان کا بھی سبب بنتی ہیں۔
اسلام انسان کی صحت اور جان کی حفاظت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس لیے کسی بیماری کے علاج کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنا جو دینی اعتبار سے ناجائز ہوں، درست نہیں۔ مسلمان مریضوں کو چاہیے کہ وہ حلال اور محفوظ علاج پر ہی اعتماد کریں اور مستند ڈاکٹروں سے مشورہ لیں۔
ماہرین صحت اور دینی علما دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ گردے کی پتھری کے علاج کے لیے بیئر یا کسی بھی نشہ آور مشروب کا سہارا لینا نہ طبی اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی دینی اعتبار سے۔ بہتر یہی ہے کہ مریض زیادہ پانی پئیں، قدرتی اور محفوظ طریقے اپنائیں، اور اگر مسئلہ سنگین ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔