حیدرآباد میں معمر خاتون کا بے رحمانہ قتل، لاش آندھرا پردیش لے جاکر گوداوری میں پھینک دی گئی، قاتل گرفتار
مقتولہ سجاتا (65) ، بابا نگر، ملاپور کی رہائشی تھیں۔ شوہر اور بیٹوں کے انتقال کے بعد وہ گھر میں تنہا رہ رہی تھیں۔ اسی تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے ان کے سونے کے زیورات پر نظر رکھنا شروع کر دی۔
حیدرآباد: شہرِ حیدرآباد کو دہلا دینے والے ایک سنگین واقعے میں ناچارم پولیس نے لاپتہ معمر خاتون کے کیس کو حل کر لیا ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ کے گھر کرائے پر رہنے والے ایک کیاب ڈرائیور نے سونے کی لالچ میں اس کا بے رحمانہ قتل کیا اور بعد ازاں اپنے ساتھیوں کی مدد سے لاش کو گوداوری دریا میں پھینک دیا۔
مقتولہ سجاتا (65) ، بابا نگر، ملاپور کی رہائشی تھیں۔ شوہر اور بیٹوں کے انتقال کے بعد وہ گھر میں تنہا رہ رہی تھیں۔ اسی تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے ان کے سونے کے زیورات پر نظر رکھنا شروع کر دی۔
ملزم کی شناخت ایم انجئی بابو (33) کے طور پر ہوئی ہے، جو پیشے سے کیاب ڈرائیور ہے۔ وہ آندھرا پردیش کے امبیڈکر کوناسیما ضلع کے پیراولی منڈل کے کوٹھاپلی گاؤں کا رہنے والا ہے اور حیدرآباد میں سجاتا کے مکان میں کرائے پر مقیم تھا۔ پولیس کے مطابق، حال ہی میں حیدرآباد آنے کے بعد اس نے واردات کی منصوبہ بندی کی۔
19 دسمبر کی رات ملزم نے سجاتا کا قتل کر کے 11 تولہ سونا لوٹ لیا۔ واردات کے بعد اس نے لاش کو گھر میں ہی رکھا، مکان کو تالہ لگا کر فرار ہو گیا۔
بعد میں اس نے اپنے دو دوستوں یووراجو (18) ساکن کنداولی اور درگا راؤ (35) ساکن ویموارم، منڈل امالاپورم کو اطلاع دی۔ 20 دسمبر کو تینوں نے ایک کار کرائے پر لی، ملاپور پہنچے اور لاش کو لے کر کوناسیما کے علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔ بعد ازاں لاش کو راجولو کے قریب گوداوری دریا میں پھینک دیا گیا۔
24 دسمبر کو سجاتا کی بہن سورن لتھا، جو معین آباد میں رہتی ہیں، گھر پہنچیں تو سجاتا کو غائب پایا۔ شبہ ہونے پر انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے محسوس کیا کہ کرایہ دار انجئی بابو بھی لاپتہ ہے۔ اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جہاں اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
ناچارم پولیس نے ملزم اور اس کے ساتھیوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔ اور لاش کو گوداوری کے پاس سے بر آمد کرلیا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس خطرے کو اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا تنہا رہنے والے بزرگ افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔ نچارم پولیس کی بروقت کارروائی سے نہ صرف لاپتہ خاتون کے کیس کی حقیقت سامنے آئی بلکہ قاتلوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکا۔