حیدرآباد کی قدیم تہذیب اور اقدار سے نئی نسل کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت: مقررین
حیدرآباد کی قدیم تہذیب، اعلیٰ اقدار اور خاندانی رشتوں کی اہمیت سے نئی نسل کو واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، بصورتِ دیگر معاشرہ انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے ممتاز ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی تصنیف ’’وہ بھولی داستاں‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجراء کے موقع پر کیا۔
حیدرآباد: حیدرآباد کی قدیم تہذیب، اعلیٰ اقدار اور خاندانی رشتوں کی اہمیت سے نئی نسل کو واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، بصورتِ دیگر معاشرہ انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے ممتاز ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی تصنیف ’’وہ بھولی داستاں‘‘ کی تقریبِ رسمِ اجراء کے موقع پر کیا۔
یہ تقریب 9 جنوری کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈاکٹر عابد معز نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے انجام دیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مشتاق علی، ڈاکٹر منصور علی خان لودھی، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، امریکہ سے آئے معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سید سمیع الدین، حبیب بن عبداللہ شہ اور دیگر معزز شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔
مقررین نے ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی کی اس تصنیف کو ایک منفرد اور تخلیقی قلمی شاہکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کتاب میں حیدرآباد کی تاریخ، تہذیب اور سماجی زندگی کو نہایت دلکش اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں خاندانِ لودھی، قطب شاہی اور آصف جاہی دور کی تاریخ، آندھرا پردیش کے قیام، تحریکِ تلنگانہ اور نئی ریاست کی تشکیل کے تاریخی مراحل کے ساتھ ساتھ بیسویں صدی کے حیدرآباد کی یادوں کو خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے۔
کتاب میں حیدرآباد کے آستانوں، بزرگانِ دین، محافلِ سماع، قوالی، شعراء کرام، تعلیمی اداروں، اسکولوں اور کالجوں کے ماحول، عوامی مزاج اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ مصنف نے ماضی کے اساتذہ کی تدریسی دلچسپی، طلبہ سے شفقت اور ان کے علمی وقار کو بھی مؤثر انداز میں قلم بند کیا ہے۔
ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ انہوں نے یہ کتاب کووڈ کے دوران تحریر کی، جب دنیا کی رفتار تھم گئی تھی اور لوگ گھروں تک محدود ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے ماموں، ممتاز ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر نظام علی لودھی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب سے جناب صلابت علی خان لودھی (ریاض) نے بھی خطاب کیا۔
اس تقریب میں ڈاکٹر زرینہ لودھی، ہم ہندوستانی تنظیم کے صدر محمد قیصر، علاءالدین ذکی، اصغر حسینی سمیت ادبی، سماجی اور علمی حلقوں کی کئی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔