حیدرآباد میں جعلی کرنسی ریکٹ بے نقاب، تین افراد گرفتار، 500 روپے کے نقلی نوٹ برآمد
اس کارروائی کے بعد حیدرآباد میں جعلی کرنسی کی ضبطی نے ایک بڑے نیٹ ورک کے انکشاف کا راستہ ہموار کر دیا ہے اور پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
حیدرآباد میں گڈی ملکاپور پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی کرنسی کے ریکٹ کا پردہ فاش کیا ہے اور تین افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر نقلی بھارتی کرنسی نوٹوں کی لین دین میں ملوث تھے۔ یہ کارروائی 17 جنوری 2026 کو نانل نگر کے ایولون اپارٹمنٹس میں مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئی۔
اس کارروائی کے بعد حیدرآباد میں جعلی کرنسی کی ضبطی نے ایک بڑے نیٹ ورک کے انکشاف کا راستہ ہموار کر دیا ہے اور پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق شام تقریباً پانچ بجے انہیں اطلاع ملی تھی کہ نانل نگر علاقے میں جعلی کرنسی کا لین دین ہونے والا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی جہاں تین افراد آپس میں نقلی نوٹوں پر جھگڑتے ہوئے پائے گئے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کر کے مزید پوچھ گچھ کے لیے گڈی ملکاپور پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے جعلی کرنسی کے تبادلے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا۔
گرفتار شدگان کی شناخت بابولال جاتکُکنا (23 سال)، نجی ملازم، ساکن راجستھان؛ دھرم ویر (22 سال)، طالب علم، ساکن راجستھان؛ اور اویس ہرسی صلاح (30 سال)، طالب علم، ساکن ٹولی چوکی، حیدرآباد، اصل تعلق کینیا کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق پہلے دو ملزمان راجستھان سے حیدرآباد جعلی کرنسی پہنچانے آئے تھے جبکہ تیسرا ملزم اسے وصول کرنے والا تھا۔ اس ریکٹ سے وابستہ دیگر افراد ابھی فرار ہیں۔
کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ساڑھے آٹھ پیکٹس میں موجود دس بنڈل نقلی 500 روپے کے نوٹ، چار موبائل فونز اور ایک ڈیو موٹر سائیکل (رجسٹریشن نمبر TG 07 N 4481) ضبط کی۔ تمام ضبط شدہ اشیاء کو ثبوت کے طور پر پولیس تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ملزمان کے اعترافی بیانات کی بنیاد پر کرائم نمبر 20/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تینوں کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی گولکنڈہ زون کے اعلیٰ پولیس افسران کی نگرانی میں انجام دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق اس معاملے میں تفصیلی تفتیش جاری ہے تاکہ جعلی کرنسی کے ماخذ، تقسیم کے نیٹ ورک اور فرار ملزمان کا پتہ لگایا جا سکے۔ گڈی ملکاپور میں سامنے آیا یہ جعلی کرنسی کیس ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نقلی کرنسی کے خلاف سخت نگرانی اور چوکس رہنا انتہائی ضروری ہے۔