ایران میں پھنسے حیدرآبادی طلبہ کے ارکان خاندان سخت پریشان
شہر کے علاقوں ٹولی چوکی، مہدی پٹنم،پرانا شہر کے ساتھ ساتھ اور سائبر آباد سے تعلق رکھنے والے کئی خاندانوں نے بتایا کہ جمعہ کی شام کے بعد سے ان کا اپنے رشتہ داروں سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے
حیدرآباد : ایران اور اسرائیل کے درمیان شروع حالیہ جنگ نے حیدرآباد کے سینکڑوں خاندانوں کو شدید ذہنی کرب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک تلگونیوزچینل کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تقریباً 900 طلباء اس وقت ایران کے مختلف شہروں، بالخصوص دارالحکومت تہران اور قم میں زیرِ تعلیم ہیں، جو جنگی حالات کی وجہ سے وہاں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
مجموعی طور پر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 2000 سے زائد افراد جن میں طلباء کے ساتھ ساتھ انجینئرس اور تاجر بھی شامل ہیں، اس وقت ایران میں موجود ہیں۔
ہفتہ کی صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے اچانک حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کر دی ہے جس کی وجہ سے حیدرآباد میں مقیم والدین کا اپنے بچوں سے رابطہ مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔
شہر کے علاقوں ٹولی چوکی، مہدی پٹنم،پرانا شہر کے ساتھ ساتھ اور سائبر آباد سے تعلق رکھنے والے کئی خاندانوں نے بتایا کہ جمعہ کی شام کے بعد سے ان کا اپنے رشتہ داروں سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شدید بمباری اور ایمرجنسی سائرن بجنے کے بعد کئی طلباء اور حیدرآبادی شہریوں نے خود کو بچانے کے لئے عمارتوں کے تہہ خانوں اور حفاظتی بنکروں میں پناہ لے رکھی ہے۔
دوسری جانب ایران میں فلائٹ آپریشن اور ایئرپورٹس کے بند ہونے کی وجہ سے کئی مسافر راستے میں ہی پھنس گئے ہیں اور فی الحال ان کی واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ جب تک انٹرنیٹ سروس بحال نہیں ہوتی، وہاں موجود شہریوں کی خیریت اور اصل صورتحال معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت ہند اور ریاستی حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سفارتی سطح پر فوری مداخلت کریں اور ایران میں پھنسے ہوئے طلباء و دیگر شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔