حیدرآباد

تلنگانہ میں تخم کی قلت سے کسان پریشان، حکومت پر کے ٹی آر کی تنقید

بی آ رایس قائد نے کہا کہ کل تک ریاست کی کانگریس حکومت، کسانوں سے دھان نہیں خرید رہی تھی اور آج یہ حکومت، کسانوں کو تخم فروخت کرنے سے قاصر ہے۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ نے چہارشنبہ کے روز حکومت تلنگانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تخم کی قلت کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا تلنگانہ میں کوئی حکومت بھی ہے؟

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

ایکس پر اپنے پوسٹ میں کے ٹی آر ار نے پوچھا کہ چیف منسٹر اور ریاستی وزیر زراعت کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین صرف انتخابی مہم جانتے ہیں، انہیں کسانوں کو کتنے مقدار میں تخم چاہئے۔ اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

بی آ رایس قائد نے کہا کہ کل تک ریاست کی کانگریس حکومت، کسانوں سے دھان نہیں خرید رہی تھی اور آج یہ حکومت، کسانوں کو تخم فروخت کرنے سے قاصر ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت، مکمل طور پر پٹری سے اتر چکی ہے، تخم کیلئے کسان صبح4بجے سے قطاروں میں کھڑے ہورہے ہیں۔ 12 گھنٹوں تک قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے کے باوجود انہیں تخم نہیں مل پا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آ ر ایس دور میں صرف10منٹ میں کسانوں میں تخم فروخت کئے جاتے تھے۔