الیکشن لڑنے کی خواہش میں ظالم باپ نے اپنی کمسن بیٹی کو قتل کر دیا، نظام ساگر سے لاش برآمد
پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے ہے، جس نے اپنی بیٹی کو نظام ساگر کے ڈی-46 نہر میں دھکیل کر ہلاک کر دیا۔
مہاراشٹرا میں ایک انتہائی لرزہ خیز اور انسانیت سوز قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک باپ نے مبینہ طور پر مقامی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی ہی کمسن بیٹی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے ہے، جس نے اپنی بیٹی کو نظام ساگر کے ڈی-46 نہر میں دھکیل کر ہلاک کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ 30 جنوری کو ایڈاپلی منڈل کے اے آر پی کیمپ کے قریب ڈی-46 نہر سے ایک کمسن بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو تحویل میں لے کر مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ بعد ازاں مقتولہ کی شناخت پراچی کونڈامنگلے کے طور پر ہوئی، جو مہاراشٹرا کے موکھیڑے علاقے کی رہنے والی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم موکھیڑے تعلقہ کے کیرور گاؤں کا رہائشی ہے، جو ایک سیلون چلاتا ہے اور اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم آئندہ سرپنچ انتخابات میں حصہ لینا چاہتا تھا، مگر مہاراشٹرا میں نافذ اس قانون کی وجہ سے پریشان تھا جس کے تحت تین بچوں والے امیدوار کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم نے پہلے بچوں کے ریکارڈ میں تبدیلی کی کوشش کی اور ایک بچے کو گود لیا ہوا ظاہر کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر سرکاری برتھ سرٹیفکیٹ موجود ہونے کے باعث یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے انتہائی سنگدلانہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ہی ایک بچے کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ انتخابی اہلیت حاصل کر سکے۔
پولیس کے مطابق یہ جرم مبینہ طور پر موجودہ سرپنچ شنڈے گنیش کے ساتھ مل کر منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا گیا۔ منصوبے کے تحت ایک بچے کو قتل کر کے یہ تاثر دینے کا ارادہ تھا کہ وہ لاپتہ ہو گیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم اپنی سب سے بڑی بیٹی پراچی کو موٹر سائیکل پر یہ کہہ کر لے گیا کہ وہ اسے گاؤں واپس چھوڑنے جا رہا ہے، مگر نظام آباد ضلع کے ایڈاپلی منڈل میں واقع ڈی-46 نہر کے قریب پہنچ کر اس نے بچی کو نہر میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے شک سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر جرم کے لیے نظام آباد کا انتخاب کیا۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ قتل باپ ہی نے کیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔
اس واقعے نے تلنگانہ اور مہاراشٹرا دونوں ریاستوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے کوئی شخص اس حد تک گر سکتا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس انسانیت سوز جرم میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔