بی سی سی آئی کے سابق صدر آئی ایس بندرا انتقال کر گئے
آئی ایس بندرا نے 1993 سے 1996 تک بی سی سی آئی کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، لیکن ان کی اصل طاقت ان کی طویل وابستگی تھی۔ وہ 36 برسوں تک (1978 سے 2014) پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ رہے اور موہالی کرکٹ اسٹیڈیم کو دنیا کے بہترین اسٹیڈیمز میں سے ایک بنانے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔
نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ ( بی سی سی آئی ) کے سابق صدر اور عالمی کرکٹ کی بااثر شخصیت آئی ایس بندرا اتوار کے روز 84 برس کی عمر میں نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ ان کے انتقال سے کرکٹ انتظامیہ کا ایک سنہری باب ختم ہو گیا ہے۔
آئی ایس بندرا نے 1993 سے 1996 تک بی سی سی آئی کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، لیکن ان کی اصل طاقت ان کی طویل وابستگی تھی۔ وہ 36 برسوں تک (1978 سے 2014) پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ رہے اور موہالی کرکٹ اسٹیڈیم کو دنیا کے بہترین اسٹیڈیمز میں سے ایک بنانے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔
ان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں 1987 اور 1996 کے ورلڈ کپ کا کامیاب انعقاد شامل ہے۔ این کے پی سالوے اور جگموہن ڈالمیا کے ساتھ مل کر انہوں نے کرکٹ کا مرکز انگلینڈ سے نکال کر برصغیر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بندرا صرف ایک ایڈمنسٹریٹر ہی نہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ بھی تھے۔ سابق ٹیم منیجر امرت ماتھر کے مطابق”1986 میں جب ہند۔پاک تعلقات کشیدہ تھے، تو یہ بندرا ہی تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو ہندوستان کے دورے کی تجویز دی، جس سے نہ صرف سیاسی برف پگھلی بلکہ کرکٹ کے میدان بھی آباد ہوئے۔”
وہ آئی سی سی کے سابق چیئرمین شرد پوار کے قریبی مشیر رہے۔ موہالی اسٹیڈیم کی تعمیر اور پنجاب میں نچلی سطح پر کرکٹ کا فروغ دیا۔ کرکٹ کے ذریعے سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی مہارت حاصل تھی ۔ان کے انتقال پر دنیائے کرکٹ کی اہم شخصیات، کھلاڑیوں اور بورڈ عہدیداروں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہندوستانی کرکٹ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔