حیدرآباد

حیدرآباد میں آٹو اور کیاب ہڑتال

تلنگانہ گِگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرس یونین (TGPWU) کے بانی ریاستی صدر شیخ صلاح الدین نے ہڑتالی ورکرس اور ان کی یونینوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد بھر میں آٹو رکشا اور ٹیکسی خدمات جمعہ کو بند ہونے والی ہیں کیونکہ ڈرائیوروں نے نئی بھارتیہ نیائے (سیکنڈ) سنہتا 2023 کے تحت ‘ہٹ اینڈ رن’ کیسوں میں جیل کی سزا میں اضافے کے خلاف احتجاجاً اس بات کا اعلان کیا ہے۔ مزید برآں، وہ خواتین کے لئے مفت بس سفر کی اسکیم ’مہالکشمی اسکیم‘ کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
ہندوستان کی پہلی خاتون میوزک ٹیکنیشن اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ساجدہ خان کو وندھیا ندھیا گورو ایوارڈ
موسیٰ پروجیکٹ، مکانات کے انہدام کی مخالفت،اندرا پارک پرمہادھرنا
راہِ دین کا داعی، عابد، مجاہد، فیاض اور جری انسان: فاضل بیابانی مرحوم
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا

اندیشہ ہے کہ ہڑتال سے مختلف ٹرانسپورٹ خدمات بشمول Ola، Uber، Rapido اور پورٹر کیابس کی طرف سے فراہم کردہ خدمات متاثر ہوں گی۔

تلنگانہ گِگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرس یونین (TGPWU) کے بانی ریاستی صدر شیخ صلاح الدین نے ہڑتالی ورکرس اور ان کی یونینوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے گِگ اور پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لئے جامع اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

صلاح الدین نے کہا کہ گگ ورکرز بھی کم از کم ایک گھنٹے کے لیے ہڑتال میں حصہ لے سکتے ہیں جس سے انصاف اور منصفانہ سلوک کے لئے ہماری اجتماعی آواز کو تقویت ملے گی۔

مطالبات میں ورکرس کے مفادات کے تحفظ کے لئے قوانین کا نفاذ، ویلفیئر بورڈز کی تشکیل اور سماجی تحفظ کے فوائد جیسے ESI، PF، زچگی اور پنشن کے فوائد کی فراہمی شامل ہے۔

مزید برآں وہ منصفانہ اجرت اور ہٹ اینڈ رن قانون کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جو پولیس کو اطلاع دیئے بغیر جائے حادثہ سے فرار ہونے پر سخت سزائیں دیتا ہے۔