حیدرآباد

فارمولا ای ریس کیس، کے ٹی آر کی کو دفتر ای ڈی میں طلبی

ای ڈی نے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے فرزند و بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر سے کہا ہے کہ وہ7 جنوری کو دفترای ڈی میں حاضر ہوں اور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

حیدرآباد: انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے گزشتہ سال فروری میں حیدرآباد میں منعقدہ فارمولا ای کار ریس میں رقم کی ادائیگی میں مبینہ بے قاعدگیوں سے مربوط منی لانڈرنگ کیس میں بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر اور دیگر چند افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کے روز یہ بات کہی۔

متعلقہ خبریں
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
تلنگانہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں! کے ٹی راما راؤ کا سخت موقف
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر

تلنگانہ اینٹی کرپشن بیورو نے ایک شکایت پر کیس درج کرنے کے بعد ای ڈی نے گزشتہ ہفتہ پرونیشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے مختلف دفعات کے تحت انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) درج کرلی تھی۔ ای ڈی نے سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے فرزند و بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر سے کہا ہے کہ وہ7 جنوری کو دفترای ڈی میں حاضر ہوں اور اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

 سینئر آئی اے ایس آفیسر اروند کمار (موظف بیورو کریٹ) اور حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (حمڈا) کے سابق چیف منسٹر انجینئر بی ایل این ریڈی کو بالترتیب 2 اور3جنوری کو ای ڈی کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی۔ ذرائع نے یہ بات بتائی۔48 سالہ کے ٹی آر کے خلاف اس الزام کی تحقیقات کی جائیں گی کہ انہوں نے بی آر ایس کے دور اقتدار میں فروری 2023 میں فارمولا ای کار ریس کے اہتمام کیلئے منظوری کے بغیر55 کروڑ روپے ادا کئے تھے۔

 ای ڈی، اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ کہیں فیما ایکٹ کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی؟۔ کے تارک راما راؤ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی بے قاعدگیوں کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کہاں ہوا ہے؟۔ ہم نے55 کروڑ روپے ادا کئے۔

انہوں نے کہا کہ انڈین اوور سیز بینک میں حمڈا کا اکاونٹ ہے۔ اس اکاونٹ سے رقم منتقل کی گئی۔ اے سی بی کے کیس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے یہ بات کہی۔