فلسطینی ریاست کے بعد ہی ہتھیار ڈالیں گے:حماس
فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اہم اعلان سامنے آیا ہے کہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی ہتھیار ڈالے جائیں گے۔ جبکہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔
غزہ: فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے اہم اعلان سامنے آیا ہے کہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی ہتھیار ڈالے جائیں گے۔ جبکہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طویل مدتی جنگ بندی پر تیار ہے۔ ہمارا موقف فلسطینی ریاست کا قیام واضح ہے اور ہم تمام اسرائیلی قیدیوں کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حماس کا یہ اہم اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے حماس کو غزہ سے متعلق ایک جامع معاہدے کے پیغامات بھیجے۔ ویٹکوف کے پیغامات میں یہ تجویز شامل ہے کہ تمام مغویوں کی رہائی کے بدلے غزہ کی جنگ کو ختم کردیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے حماس تک ایک جامع سمجھوتے کے بنیادی نکات پہنچائے ہیں۔ جن کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام مغویوں کی رہائی ہے۔ یہ کوئی حتمی یا با ضابطہ مسودہ نہیں بلکہ عمومی نکات ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل جاری رہے۔
بیت المقدس میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ اُس وقت ختم ہو سکتی ہے جب حماس مغویوں کو رہا کرے اور ہتھیار ڈال دے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے حماس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر اسرائیل جنگ ختم کر کے اپنی فوج واپس بلائے تو وہ تمام مغویوں کو رہا کردے گا۔ حماس نے ہفتے کی شب یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ایسی کسی بھی تجویز کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے جس سے غزہ میں مستقل جنگ بندی ممکن ہو سکے۔