ہیڈ ماسٹر نے 12 طلبہ کو پانی کے پائپ سے پیٹا، بچوں کی پشت پر زخم، والدین کا شدید احتجاج
والدین نے ہیڈ ماسٹر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو نظم و ضبط کے نام پر جسمانی سزا دینا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سے واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
منوگوڑو: تلنگانہ کے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع میں ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر پر 12 طلبہ کو پانی کے پائپ سے مبینہ طور پر مارنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد طلبہ کے والدین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ منوگوڑو کے رامانوجاورم منڈل میں واقع ضلع پریشد ہائی اسکول میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق اسکول میں طلبہ کی جانب سے شور شرابہ کرنے پر ہیڈ ماسٹر ناراض ہوگئے۔
الزام ہے کہ ہیڈ ماسٹر نے طلبہ کو سزا دینے کے لیے مشن بھاگیرتا کے پانی کی سپلائی میں استعمال ہونے والے پائپ کا استعمال کیا اور 12 طلبہ کو مبینہ طور پر شدید مارپیٹ کی۔
مارپیٹ کے نتیجے میں طلبہ کی پشت پر زخم اور سوجن آنے کی اطلاعات ہیں۔ واقعہ کے بعد طلبہ نے اپنے والدین کو مبینہ طور پر پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں بتایا۔
بچوں کی حالت اور ان پر مبینہ تشدد کی اطلاع ملنے پر والدین نے اسکول پہنچ کر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اسکول انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔
والدین نے ہیڈ ماسٹر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو نظم و ضبط کے نام پر جسمانی سزا دینا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سے واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
حکام کی جانب سے واقعہ کی تفصیلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ واقعہ میں اصل میں کیا ہوا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔