آندھراپردیش

چندرا بابو کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ملتوی

ہریش سالوے نے کہا کہ اینٹی کرپشن ایکٹ ترمیم کے ہر لفظ کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کے علم میں لایا گیا کہ کابینہ کے فیصلوں کا ذمہ دار اکیلا وزیراعلیٰ نہیں ہو سکتا۔

حیدرآباد: سپریم کورٹ نے اسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں آندھراپردیش کے سابق وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرابابونائیڈو کی الزامات کو کالعدم قراردینے کی درخواست پر سماعت کو پیر تک ملتوی کریا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہریش سالوے اور ابھیشیک سنگھوی نے چندرا بابو کی طرف سے دلائل پیش کئے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
تلنگانہ ہائی کورٹ میں تحقیقاتی کمیشن کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست مسترد
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
ٹی ڈی پی کے قائدین گھروں پر نظر بند
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا

ہریش سالوے نے دلیل دی کہ دفعہ 17A سیاسی انتقام کے لیے لگائی گئی ہے، اس معاملے میں کیا یہ دفعہ لاگو ہوتی ہے؟ یانہیں یہی اصل بات ہے۔انہوں نے کہاکہ مقدمہ کب درج ہوا اور جانچ کب کی جارہی ہے؟ اس کے بعد ابھیشیک سنگھوی نے بحث کی۔

انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن ایکٹ ترمیم کے ہر لفظ کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کے علم میں لایا گیا کہ کابینہ کے فیصلوں کا ذمہ دار اکیلا وزیراعلیٰ نہیں ہو سکتا۔  

انہوں نے کہاکہ یشونت سنہا کیس میں عدالت کا فیصلہ یقینی طور پر اس کیس پر لاگو ہوتا ہے۔ عدالت نے دلائل کی سماعت کے بعد اس معاملہ پر مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔