قومی

بڈگام میں خوفناک سڑک حادثہ، چار افراد ہلاک، سات شدید زخمی، وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حادثے کی وجوہات کا جامع اور شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سری نگر: وسطی ضلع بڈگام کے وترونی علاقے میں ہفتے کی دیر شام اس وقت سنسنی اور ماتم کا ماحول پھیل گیا جب ایک ڈمپر اور ٹاٹا سومو کے درمیان خوفناک ٹکر ہوگئی، جس کے نتیجے میں دس افراد بری طرح زخمی ہوئے، جبکہ اسپتال پہنچتے ہی چار افراد نے دم توڑ دیا۔ دیگر سات زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
جنتادل (یو) رکن اسمبلی نے ایک شخص کو تھپڑ مارا (ویڈیو)
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام


اطلاعات کے مطابق دیر شام وترونی کے قریب ڈمپر اور سومو میں شدید ٹکر ہوئی، جس کے نتیجے میں سومو میں سوار مسافر وہیں زخمی حالت میں گر پڑے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ، پولیس ٹیمیں اور سی آر پی ایف کے اہلکار جائے واردات پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا۔


اسپتال ذرائع نے بتایا کہ دس زخمیوں کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے چار افراد کو مردہ قرار دیا، جبکہ سات دیگر افراد کے متعدد زخم گہرے ہیں اور وہ نازک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔


نمائندے کے مطابق بڈگام کے نومنتخب ممبر اسمبلی آغا منتظر مہدی بھی فوری طور پر اسپتال پہنچے اور وہاں موجود انتظامیہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔


ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بڈگام حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد یقینی بنائی جائے۔


وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حادثے کی وجوہات کا جامع اور شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔