’میں سائیکو ہو گیا ہوں‘ بیوی کا سر قلم کرنے کے بعد مرد کٹے ہوئے سر کے ساتھ مندر میں بیٹھا رہا
مغربی بنگال کے جنوبی دیناج پور میں سابق بس کنڈکٹر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کا سر گود میں رکھ کر کالی مندر میں بیٹھ گیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا، جبکہ اس نے نوکری چھوٹنے کے بعد خود کو سائیکو بن جانے کی بات کہی۔
کولکتہ: مغربی بنگال کے جنوبی دیناج پور ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا سر قلم کرنے کے بعد اس کا سر گود میں رکھ کر کالی مندر میں بیٹھ گیا۔ اس دوران اس کے دونوں بیٹے بھی اس کے قریب موجود تھے
ملزم کی شناخت رنتو گھوش کے طور پر کی گئی ہے، جو پہلے نارتھ بنگال اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (NBSTC) میں بس کنڈکٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ واقعہ بدھ کے روز گنگارام پور کے تحت نارائن پور کے وارڈ نمبر 4 میں پیش آیا۔
مقامی افراد نے جب ملزم کو مندر میں مشتبہ حالت میں دیکھا تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق ملزم کے ہاتھ میں چاقو تھا اور اس کی گود میں اس کی 35 سالہ بیوی سیما سرکار کا سر موجود تھا۔
پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے خاتون کی لاش برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردی۔
پولیس گاڑی میں لے جاتے وقت ملزم نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اپنی ملازمت ختم ہونے کا ذکر کیا۔ اس نے کہا، ’’NBSTC کی نوکری جانے اور پولیس اسٹیشن جانے کے بعد میں سائیکو بن گیا ہوں۔‘‘
ملزم کے رشتہ دار راجیش پرمانک کے مطابق، بس کنڈکٹر کی ملازمت ختم ہونے کے بعد رنتو گھوش کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس نے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ حاصل نہیں کرسکا۔
رشتہ دار کا مزید دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں ملزم کے رہن سہن اور طرزِ زندگی میں بھی تبدیلیاں آئی تھیں۔ اس نے مبینہ طور پر گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا اور سبزی خور بن گیا تھا۔ اس کے بعض رویوں کو رشتہ دار نے تانترک سرگرمیوں سے بھی جوڑا ہے۔