حیدرآباد

حیدرآباد میں 20 فٹ سے کم چوڑے پلاٹس پر تعمیرات مشکل، پرانے شہر کے مکین پریشان

حیدرآباد میں 20 فٹ سے کم چوڑائی والے رہائشی پلاٹس پر مکانات کی تعمیر سے متعلق قوانین پر سختی کے باعث بالخصوص پرانے شہر کے مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے بلڈنگ قوانین پر سختی سے عمل آوری کے فیصلے نے ریئل اسٹیٹ ڈیولپرس اور مکانات تعمیر کرنے والے شہریوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ حکومت نے 14 سال پرانے ایک قانون کو بلڈ ناؤ سافٹ ویئر کے ذریعے سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 20 فٹ سے کم چوڑائی والے رہائشی پلاٹس پر مکانات کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ قانون 2012 میں متعارف کیا گیا تھا، تاہم حال ہی میں بلڈ ناؤ سافٹ ویئر میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ نظام بنایا گیا کہ مقررہ شرائط پوری نہ کرنے والی درخواستیں خودکار طور پر مسترد کردی جائیں گی۔

اس فیصلے کے بعد خاص طور پر حیدرآباد کے پرانے شہر میں شدید مخالفت اور احتجاج دیکھنے میں آیا، کیونکہ سافٹ ویئر پرانے مکانات کو منہدم کرنے کے بعد دوبارہ تعمیر کرنے کی درخواستیں بھی قبول نہیں کررہا تھا۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں مکانات 60 سے 70 مربع گز کے چھوٹے پلاٹس پر تعمیر کیے گئے ہیں، جہاں سڑک کی جانب پلاٹ کی چوڑائی 20 فٹ سے بھی کم ہے۔ ایسے میں ان مکانات کی دوبارہ تعمیر میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس قانون سے خاص طور پر متوسط طبقے اور معاشی طور پر کمزور خاندان متاثر ہورہے ہیں، جن کے پاس چھوٹے پلاٹس پر تعمیر کردہ آبائی مکانات ہیں۔

دوسری جانب عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس قانون پر سختی سے عمل ضروری ہے تاکہ بڑے پلاٹس کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے مکانات تعمیر کرنے کے رجحان کو روکا جاسکے۔ ان کے مطابق چھوٹے پلاٹس پر غیر منصوبہ بند تعمیرات سے عمارتوں کی حفاظت متاثر ہوتی ہے، گلیاں تنگ ہوجاتی ہیں، پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ کم ہوجاتی ہے اور نکاسی آب سمیت دیگر بنیادی شہری سہولتوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

محکمہ بلدی نظم و نسق کے ایک سینئر عہدیدار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ بعض ڈیولپرس رہن رکھنے سے متعلق ضابطوں سے بچنے کے لیے بڑے پلاٹس کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کررہے تھے۔

تاہم عوامی احتجاج میں شدت کے بعد حکام کو بلڈ ناؤ سافٹ ویئر میں تبدیلی کرنی پڑی۔ اب سافٹ ویئر ایسی درخواستیں قبول کررہا ہے، لیکن تعمیراتی اجازت کی حتمی منظوری موقع پر معائنہ کرنے کے بعد ہی دی جائے گی۔