دیوالی کی تقریب میں ہنگامہ، ہندوستانیوں کے خلاف نعرے بازی
امریکی دائیں بازو کے کارکن جیک لانگ نے ساتھیوں کے ساتھ دیوالی تقریب میں احتجاج کیا اور ہندوستانی نژاد افراد کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔ رکن کانگریس پرمیلا جے پال نے نفرت انگیز احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔
امریکہ کے شہر سیئٹل میں دیوالی کی تقریبات کے دوران اُس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب انتہا پسند گروپ کے ارکان نے جشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ امریکی دائیں بازو کے انتہا پسند کارکن جیک لانگ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تقریب کے مقام پر پہنچ کر احتجاج شروع کردیا اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
جیک لانگ نے اپنے پلے کارڈ پر ہندوستانی نژاد افراد کے خلاف توہین آمیز نعرہ درج کیا تھا اور انہیں امریکہ سے ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس دوران تقریب میں موجود بعض افراد نے جیک لانگ کو روکنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں جیک لانگ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر احتجاج کی چند تصاویر بھی پوسٹ کیں اور ہندو برادری کے خلاف نازیبا تبصرے کیے۔ اس نے الزام لگایا کہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کی وجہ ہندو ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیک لانگ نسل پرستانہ نظریات رکھنے والی تنظیم ’وائٹ ریپلیسمنٹ‘ کا سربراہ ہے۔
وہ 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے تشدد کے واقعے میں بھی ملوث تھا، جس کے بعد اسے چار سال قید کی سزا ہوئی تھی۔
تاہم سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے معافی دیے جانے کے بعد اسے 2025 میں رہا کردیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دو روز قبل ہی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دیوالی کی تقریب منعقد کی تھی۔
جیک لانگ کے اس احتجاج کی امریکی رکنِ کانگریس پرمیلا جے پال نے سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نسل پرستی اور نفرت پر مبنی سوچ کے خلاف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دیوالی ہندو برادری کا ایک اہم تہوار ہے اور ہر شخص کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ بلا خوف و خطر اپنا مذہبی تہوار منا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ میں اس طرح کے نفرت انگیز احتجاج کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔