حیدرآباد

حیدرآباد: جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش،تین افراد گرفتار

اطلاعات کے مطابق، وادیِ صالحین میں واقع ایک مکان میں 52 سالہ شخص جسم فروشی کا کاروبار چلا رہا تھا۔ وہ متاثرہ خواتین کی مدد سے گاہکوں کو لالچ دے کر مکان پر بلاتا اور فراہم کی جانے والی خدمات پر کمیشن وصول کرتا تھا۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملنے پر بالاپور انسپکٹر ایم سدھاکر کی قیادت میں ایک ٹیم نے ہفتہ کی رات اچانک کارروائی انجام دی۔

حیدرآباد: شہرحیدرآباد کے مضافاتی علاقہ شاہین نگر میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایک آرگنایزر اور دو گاہکوں کو گرفتار کرلیا، جبکہ پانچ خواتین کو بازیاب کرا کے بحالی مرکز منتقل کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں
متلاشیان روزگار کو دھوکہ سے کمبوڈیا روانہ کرنے پر یو پی کے ایک شخص کی گرفتاری
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام


اطلاعات کے مطابق، وادیِ صالحین میں واقع ایک مکان میں 52 سالہ شخص جسم فروشی کا کاروبار چلا رہا تھا۔ وہ متاثرہ خواتین کی مدد سے گاہکوں کو لالچ دے کر مکان پر بلاتا اور فراہم کی جانے والی خدمات پر کمیشن وصول کرتا تھا۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملنے پر بالاپور انسپکٹر ایم سدھاکر کی قیادت میں ایک ٹیم نے ہفتہ کی رات اچانک کارروائی انجام دی۔


اس کارروائی کے دوران اس شخص اور دو گاہکوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے بحالی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں انہیں کونسلنگ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزمین کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

جائے وقوعہ سے کچھ شواہد بھی برآمد کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شواہد نیٹ ورک کے دیگر روابط کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔


ذرائع کے مطابق، بازیاب کرائی گئی خواتین مختلف ریاستوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔


پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی کام کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔