تلنگانہ

بی سی ریزرویشن کے حصول کے لیے بھوک ہڑتال، کویتا کا اعلان

کویتا نے کہا کہ بی سی طبقوں میں 112 ذاتیں شامل ہیں اور ہر روز 40 ذاتوں کو اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس لیے تمام طبقات کی بات سننے کے لیے کم از کم تین دن درکار ہیں۔ اسی مقصد کے لیے 72 گھنٹے تک کھانا اور پانی چھوڑ کر گاندھیائی طرز پر بھوک ہڑتال کی جائے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور ایم ایل سی کویتا نے اعلان کیا ہے کہ بی سی ریزرویشن کے حصول کے لیے تلنگانہ جاگروتی کل سے شروع ہونے والے تین دنوں تک (72 گھنٹے) غیر معینہ بھوک ہڑتال کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس احتجاج کے لیے مثبت طور پر اجازت دینی چاہیے۔

متعلقہ خبریں
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ


کویتا نے کہا کہ بی سی طبقوں میں 112 ذاتیں شامل ہیں اور ہر روز 40 ذاتوں کو اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس لیے تمام طبقات کی بات سننے کے لیے کم از کم تین دن درکار ہیں۔ اسی مقصد کے لیے 72 گھنٹے تک کھانا اور پانی چھوڑ کر گاندھیائی طرز پر بھوک ہڑتال کی جائے گی۔


انہوں نے الزام لگایا کہ بی سی طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن فراہم کیے بغیر کانگریس اور بی جے پی ڈرامے کر رہی ہیں۔ بی جے پی آرڈیننس پر واضح موقف اختیار نہیں کر رہی، جبکہ بی سی ریزرویشن پر اس کا دھرنا محض ایک "کامیڈی دھرنا” ہے، جیسے کوئی چور دوسروں پر چور ہونے کا الزام لگائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہونے والی شخصیت نہیں ہیں بلکہ تلنگانہ کے لیے لڑنے والی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جو خط کیس آر کو لکھا، وہ کس طرح افشا ہوا، اس کا انہیں علم ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم رمیش کے بیانات اور کے سی آر کو لکھے گئے خط کے افشا ہونے کے درمیان تعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں، "میچ فکسنگ” انہی لوگوں کی عادت ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی میں شامل ہوکر عہدے حاصل کرتے ہیں۔


کویتا نے سوال اٹھایا کہ بی سی ریزرویشن پر نہ راہل گاندھی اور نہ ہی پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ میں بات کی۔ اگر وہ صدرِ جمہوریہ سے وقت مانگتے تو کیا انہیں اپائنٹمنٹ نہ ملتا؟


انہوں نے مطالبہ کیا کہ کل سے شروع ہونے والی اس بھوک ہڑتال کو حکومت فوری طور پر اجازت دے۔