حیدرآباد

حیدرآباد: بے روزگار سافٹ ویئر انجینئر نے خودکشی کر لی

اکھل نے چٹیالہ ریلوے اسٹیشن کے قریب لنگم پلی جانے والی نارائنادری ایکسپریس ٹرین کے سامنے کود کر یہ انتہایی اقدام کیا۔ وہ نیرڈا گاؤں کا رہنے والا تھا اوراس نے بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد حیدرآباد میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کچھ عرصہ کام کیا تھا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع کے چٹیال منڈل میں ایک بے روزگار سافٹ ویئر انجینئر نے خودکشی کر لی ۔اس کی شناخت 24سالہ اکھل روپانی کے طورپر کی گیی ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بیٹی کی شادی کی رقم لے کر باپ فرار۔ ماں خودکشی کرلینے پر مجبور
نوجوانوں کیلئے لڑنے مشترکہ پلاٹ فارم ضروری: شرمیلا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

اس نے ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کر لی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ افسوسناک قدم اس نے مسلسل بے روزگاری سے مایوس ہو کر اٹھایا۔


اکھل نے چٹیالہ ریلوے اسٹیشن کے قریب لنگم پلی جانے والی نارائنادری ایکسپریس ٹرین کے سامنے کود کر یہ انتہایی اقدام کیا۔ وہ نیرڈا گاؤں کا رہنے والا تھا اوراس نے بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد حیدرآباد میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کچھ عرصہ کام کیا تھا۔


تاہم کم تنخواہ سے غیر مطمئن ہو کر وہ ایک سال قبل اپنے گاؤں واپس لوٹ آیا۔ بہتر روزگار کے لیے اس نے بارہا کوششیں کیں، لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجہ میں وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گیاتھا۔