حیدرآباد

ماہِ رمضان میں حیدرآباد کے افطار دسترخوان: جہاں امیر و غریب ایک ہی صف میں

اپنی تہذیبی روایت، مہمان نوازی اور گنگا جمنی ثقافت کے لیے معروف شہر حیدرآباد میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک بار پھر بھائی چارے اور مساوات کی خوبصورت مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

حیدرآباد: اپنی تہذیبی روایت، مہمان نوازی اور گنگا جمنی ثقافت کے لیے معروف شہر حیدرآباد میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک بار پھر بھائی چارے اور مساوات کی خوبصورت مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شہر کی قدیم مساجد سے لے کر نئی آبادیوں تک افطار کے وقت بچھنے والے وسیع دسترخوان نہ صرف روزہ داروں کے لیے کھانے کا انتظام ہوتے ہیں بلکہ سماجی یکجہتی اور انسانی ہمدردی کی علامت بھی بن جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال

جیسے ہی غروبِ آفتاب کا وقت قریب آتا ہے، شہر کا ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اذانِ مغرب کی صدا بلند ہوتے ہی مساجد اور سڑکوں پر بچھے دسترخوانوں کے گرد بیٹھے سینکڑوں روزہ دار ایک ساتھ افطار کرتے ہیں۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ باہمی محبت اور مساوات کو فروغ دینے کا موقع بھی ہے۔

ان دسترخوانوں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دولت اور حیثیت کی کوئی تفریق باقی نہیں رہتی۔ تاریخی مکہ مسجد، شاہی مسجد پبلک گارڈن اور شہر کی دیگر بڑی مساجد میں عام طور پر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طرف کسی کاروباری شخصیت یا صاحبِ حیثیت فرد کے ساتھ ایک مزدور، رکشہ چلانے والا یا دور دراز سے آنے والا مسافر بھی بیٹھا ہوتا ہے۔ سب ایک ہی دسترخوان پر کھجور، پانی اور پھلوں سے روزہ افطار کرتے ہیں۔ اس موقع پر نہ کوئی پروٹوکول ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی امتیازی دیوار۔

ماہرینِ سماجیات کے مطابق ایسے اجتماعی افطار معاشرے میں موجود طبقاتی فرق کو کم کرنے اور لوگوں کے درمیان ہمدردی و قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے دوران حیدرآباد میں یہ روایت خاص اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔

حیدرآبادی دسترخوان اپنی لذیذ روایتی اشیاء کے لیے بھی مشہور ہیں۔ افطار میں کھجور اور پھلوں کے ساتھ ساتھ شہر کے مخصوص پکوان جیسے حلیم، دہی بڑے، سموسے اور دیگر مقامی لذیذ غذا بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ کئی مخیر حضرات گمنامی میں رہتے ہوئے ان دسترخوانوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس خدمت میں شریک ہو کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔

مساجد کے علاوہ شہر کی مختلف سڑکوں اور چوراہوں پر بھی نوجوانوں کے گروپ مسافروں اور راہگیروں کو افطار کروانے کے لیے کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔ گاڑیوں کو روک کر لوگوں کو افطار کی دعوت دینا حیدرآباد کی اسی مہمان نوازی اور کشادہ دلی کی جھلک ہے۔

اس پورے عمل میں نوجوان رضاکاروں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ افطار سے کئی گھنٹے قبل ہی بڑی تعداد میں والینٹیرز مساجد اور عوامی مقامات پر پہنچ کر صفائی، دسترخوان بچھانے اور کھانے کی تقسیم کے انتظامات میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہ اس خدمت کو کسی معاوضے کے بجائے ایک نیکی اور سعادت سمجھتے ہیں۔

ان دسترخوانوں کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے کسی بھی حصے میں موجود کوئی بھی شخص افطار کے وقت خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ چاہے وہ مزدور ہو، مسافر ہو یا کوئی ضرورت مند، اسے کہیں نہ کہیں افطار کا انتظام ضرور مل جاتا ہے۔

رمضان کا مہینہ اگرچہ اختتام کو پہنچ جاتا ہے، لیکن حیدرآباد کے ان اجتماعی دسترخوانوں سے ملنے والا بھائی چارے اور مساوات کا پیغام پورا سال شہریوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہی روایت اس شہر کو دیگر شہروں سے منفرد بناتی ہے اور اس کی تہذیبی خوشبو کو دنیا بھر میں پھیلاتی ہے۔