حیدرآباد

حیدرآباد کے کونڈاپورمیں حیدراکی انہدامی کارروائی

اطلاعات کے مطابق سروے نمبر 59 میں واقع 36 ایکڑ اراضی 12 کسانوں کے زیرِ قبضہ تھی تاہم حکام نے اسے سرکاری اراضی قرار دیا۔ اس اراضی کی مالیت تقریباً 3600 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹررسپانس اینڈ ایسیٹ پروٹکشن ایجنسی(حیدرا)نے حیدرآباد کے کونڈاپور علاقہ میں ایک بار پھر بڑے پیمانہ پر انہدامی کارروائی شروع کی۔ ہفتہ کی صبح سے ہی بھاری پولیس بندوبست کے درمیان 36 ایکڑ پر تعمیر شدہ ڈھانچوں کو منہدم کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گچی باؤلی میں حائیڈرا کا بڑا ایکشن، غیرقانونی تعمیرات کا صفایا، ہائی کورٹ کے احکامات پر فوری کارروائی
کونڈاپور میں بی آر ایس رکن اسمبلی کے مکان کے باہر کشیدگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات


اطلاعات کے مطابق سروے نمبر 59 میں واقع 36 ایکڑ اراضی 12 کسانوں کے زیرِ قبضہ تھی تاہم حکام نے اسے سرکاری اراضی قرار دیا۔ اس اراضی کی مالیت تقریباً 3600 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔


انہدامی کارروائی کی اطلاع پا کر مقامی افراد بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے جنہوں نے اس کارروائی کے خلاف مزاحمت کی اور احتجاج شروع کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اراضی گزشتہ 60 برسوں سے ان کے قبضے میں ہے اور انہوں نے انہیں نسل در نسل محفوظ رکھا ہے۔ اب اس اراضی پر حکومت کی اجارہ داری مسلط کرنا ناانصافی ہے۔


ادھر انہدامی کارروائی کے مقام پر پولیس نے میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔ صحافیوں اور مقامی افرادکو دو کلو میٹر دور ہی روک دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اراضی پر گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے تنازعہ چل رہا ہے۔