درگم چیروؤ میں غیر قانونی قبضوں پر حائیڈرا کا ایکشن، پانچ ایکڑ اراضی خالی کروائی گئی
شہری آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کارروائی میں حائیڈرا (HYDRA) نے مشہور درگم چیروؤ میں غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت قدم اٹھایا ہے۔
حیدرآباد: شہری آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کارروائی میں حائیڈرا (HYDRA) نے مشہور درگم چیروؤ میں غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت قدم اٹھایا ہے۔ مادھاپور کے اِن آربٹ مال کی سمت واقع جھیل کے قریب تقریباً پانچ ایکڑ اراضی سے قبضے ہٹا دیے گئے، جس سے ماحولیاتی حلقوں اور مقامی عوام میں اطمینان پایا جا رہا ہے۔
کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ اراضی کو مٹی سے بھر کر غیر قانونی پارکنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، جہاں سے ہر ماہ تقریباً پچاس لاکھ روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا تھا۔ حائیڈرا کی ٹیموں نے وہاں موجود تمام گاڑیوں کو ہٹوایا، پارکنگ کا دھندا بند کرایا اور فی الحال فینسنگ نصب کر دی۔ ساتھ ہی جھیل میں ڈالی گئی مٹی کو ہٹانے کے اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی پرجاوانی میں موصول ہونے والی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔ حائیڈرا کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے متعلقہ محکموں کے ساتھ زمینی سطح پر جانچ کے احکامات دیے۔ جانچ کے بعد قبضوں کی تصدیق ہوئی، جس پر منگل کے روز تقریباً پانچ ایکڑ اراضی سے غیر قانونی استعمال ختم کر دیا گیا۔
این آر ایس سی کی جانب سے فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ درگم چیروؤ کا رقبہ مسلسل کم ہوتا گیا ہے۔ ایک زمانے میں جھیل کا رقبہ 160 ایکڑ تھا جو اب گھٹ کر 116 ایکڑ رہ گیا ہے۔ 1976 تک تقریباً 29 ایکڑ اراضی پر قبضہ ہو چکا تھا، 1995 سے 2000 کے درمیان مزید 10 ایکڑ کم ہوئے، جبکہ 2000 کے بعد اب تک تقریباً 5 ایکڑ پر مزید قبضہ کیا گیا۔
تاریخی طور پر درگم چیروؤ گولکنڈہ قلعہ کے شاہی خاندان کے لیے پینے کے پانی کا ذریعہ رہا ہے اور کبھی یہ پہاڑیوں کے درمیان صاف و شفاف پانی کی وجہ سے مشہور تھا۔ بعد ازاں غیر قانونی قبضوں اور گندے پانی کے اخراج نے اس خوبصورت جھیل کو آلودگی کا شکار بنا دیا، حالانکہ یہ شہر کے مصروف آئی ٹی کاریڈور میں واقع ہے۔
حکام کے مطابق قبضے نہ صرف جھیل کے قدرتی حسن کو نقصان پہنچا رہے تھے بلکہ واکنگ ٹریک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ ایک عوامی نمائندے کی جانب سے بغیر کسی معتبر ریکارڈ کے زمین پر ملکیت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جبکہ مشاہدہ کیا گیا کہ دعویٰ کردہ اراضی ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ایچ ایم ڈی اے نے سال 2014 میں ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جھیل کا رقبہ 160.7 ایکڑ قرار دیا تھا۔ حائیڈرا اب این آر ایس سی، سروے آف انڈیا اور محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی بنیاد پر جھیل کی حد بندی کو حتمی شکل دے رہی ہے اور باقی تمام قبضوں کے خاتمے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
درگم چیروؤ میں قبضوں کے خلاف یہ کارروائی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ حیدرآباد میں جھیلوں پر غیر قانونی قبضوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق جھیل کے مکمل تحفظ اور بحالی تک یہ مہم جاری رہے گی تاکہ آئندہ نسلوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول میسر آ سکے۔