حائیڈرا کی کارکردگی سے شہر کا منظرنامہ تبدیل، تالاب بن گئے عوامی کشش کا مرکز
جن تالابوں کی پہچان کبھی بدبو، گندگی اور تجاوزات تھی، وہ آج شہریوں کے لیے خوشی، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز بن گئے ہیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں حائیڈرا (HYDRAA) کی جانب سے ترقی یافتہ تالاب اب تہواروں کی خوبصورت علامت بن چکے ہیں۔ جن تالابوں کی پہچان کبھی بدبو، گندگی اور تجاوزات تھی، وہ آج شہریوں کے لیے خوشی، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز بن گئے ہیں۔ نئے سال کے موقع پر کائٹ فیسٹیول کے لیے بھی انہی تالابوں کو سجایا گیا ہے، جسے دیکھ کر شہر کے عوام خوشی اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔
گزشتہ برس امبرپیٹ کے بتکما کنٹہ میں بتکما تہوار منعقد ہوا تھا، جس کا افتتاح وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کیا اور وہ خود بھی تقریبات میں شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک ہفتے تک وہ تالاب تہواروں کی رونق بنا رہا۔ اب نئے سال میں مزید تالابوں کو کائٹ فیسٹیول کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ایک وقت تھا جب شہر کے تقریباً 60 فیصد تالاب ختم ہو چکے تھے اور جو بچے تھے وہ تجاوزات اور گندے نالوں کا شکار بن کر مردہ کنوؤں میں تبدیل ہو گئے تھے۔ ان علاقوں میں مچھر، کیڑے اور بیماریاں پھیلتی تھیں اور لوگ وہاں جانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ یہ سب صورتحال حائیڈرا کے قیام سے پہلے کی تھی۔
حائیڈرا کے اقدامات کے بعد تالابوں کی صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی۔ گندے پانی کا رخ موڑا گیا، تالابوں میں جمع پُرانا کچرا اور پودے نکالے گئے، تجاوزات ہٹائی گئیں اور ہزاروں لاریوں کے ذریعے مٹی صاف کی گئی۔ تالابوں کے اطراف مضبوط بند تعمیر کر کے واکنگ ٹریکس بنائے گئے، بچوں کے کھیلنے، ورزش کرنے اور آرام کے لیے کھلی جگہیں فراہم کی گئیں۔
اب وہ تالاب جو کبھی دیکھنے کے قابل بھی نہیں تھے، آج سیاحتی مقامات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ صبح اور شام واکرز، بچوں کی کھیل کود اور خاندانوں کی آمد سے ان علاقوں میں خوشگوار ماحول نظر آتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ تالاب تہواروں کی میزبانی کے لیے موزوں بن گئے ہیں۔
11 جنوری سے تین روزہ کائٹ فیسٹیول کا آغاز ہو رہا ہے، جس کے لیے منتخب تالابوں کو مزید خوبصورت انداز میں سجایا گیا ہے۔ مادھاپور کے تمّڈی کنٹہ تالاب کو تجاوزات سے آزاد کر کے 14 ایکڑ سے بڑھا کر 30 ایکڑ تک وسعت دی گئی ہے۔ اسی طرح کوکٹ پلی کے نلا چروو کو 16 ایکڑ سے 30 ایکڑ تک پھیلایا گیا ہے۔
پرانے شہر کا تاریخی بم-رکن اُد-دولہ تالاب کبھی 104 ایکڑ پر محیط تھا اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرتا تھا، مگر وقت کے ساتھ سکڑ کر صرف 4.12 ایکڑ رہ گیا تھا۔ اب حائیڈرا نے اسے دوبارہ 17 ایکڑ تک وسعت دے کر نہایت دلکش بنا دیا ہے۔
حال ہی میں ایک عالمی سمٹ کے دوران حیدرآباد آنے والے ماحولیاتی ماہرین نے حائیڈرا کے تیار کردہ تالابوں کو دیکھ کر حیرت اور خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ حائیڈرا جیسا نظام پورے ملک میں نافذ ہونا چاہیے۔
حائیڈرا نے پہلے مرحلے میں جن چھ تالابوں کو ترقی دینے کا بیڑا اٹھایا تھا، ان میں بتکما کنٹہ پہلے ہی عوام کے لیے کھولا جا چکا ہے، جبکہ تمّڈی کنٹہ، نلا چروو اور بم-رکن اُد-دولہ تالاب اب کائٹ فیسٹیول کی میزبانی کر رہے ہیں۔ مادھاپور کا سُنّم چروو اور اُپل کا نلا چروو اب بھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آج تالاب صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ شہر کی نئی شناخت بن چکے ہیں، جہاں لوگ سکون، تفریح اور تہواروں کا لطف ایک ساتھ اٹھا سکتے ہیں۔