تلنگانہسیاست

تلنگانہ میں کانگریس کے برسراقتدارآنے پر دھرانی نظام ختم کرکے کسانوں سے انصاف کیاجائیگا: ملوبھٹی وکرامارکا

حیدرآباد: تلنگانہ کے سی ایل پی لیڈرملوبھٹی وکرامارکانے کہا ہے کہ آئندہ پانچ ماہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کے برسراقتدارآنے کے بعد دھرانی نظام کو ختم کرکے کسانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے سی ایل پی لیڈرملوبھٹی وکرامارکانے کہا ہے کہ آئندہ پانچ ماہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کے برسراقتدارآنے کے بعد دھرانی نظام کو ختم کرکے کسانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

انہوں نے کہا کہ ریاست کے وزیرزراعت نرنجن ریڈی کا یہ دعویٰ کہ وہ محبوب نگر ضلع کے آبپاشی پراجکٹس سے واقف نہیں ہیں، ان کی لاعلمی کا ثبوت ہے۔

کانگریس کوریاست میں نچلی سطح سے مستحکم کرنے،عوامی مسائل سے واقفیت اورچندرشیکھرراو زیرقیادت حکومت کی ناکامیوں کواجاگر کرنے کیلئے جاری پیپلز مارچ پدایاترا کے ایک حصہ کے طور پرانہوں نے محبوب نگر ضلع میں کارنرمیٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نرنجن ریڈی پر شدید نکتہ چینی کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ متحدہ محبوب نگر میں اپنی یاترا جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزیرموصوف میں ہمت ہوتو وہ حکام، آبپاشی کے شعبہ کے ماہرین اور دیگر کو اپنے ساتھ لے آئیں تاکہ ان کے دعووں کو ثابت کیا جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ وہ ایک دن کی پدایاترا کے بعد عوامی بحث کے لیے تیارہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ وزیرموصوف کم علمی کے ساتھ آبپاشی کے منصوبوں کی ترقی کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ پالامورو رنگا ریڈی پراجکٹ کے سلسلے میں حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں؟ انہوں نے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے اس وعدے کو مسترد کردیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پالامورو رنگا ریڈی پراجکٹ کو تین سال کے اندر مکمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کی تعمیر میں حکومت کی طرف سے کیا پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں،ان سے واقف کروایاجائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور پیپر لیک کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چندرشیکھرراوحکومت نے سری کانت چاری کے خاندان کے ساتھ کیا انصاف کیا جس نے ریاست تلنگانہ کے لیے اپنی جان قربان کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دھرانی پورٹل کے نام پر محکمہ ریونیو میں رشوت خوری کی گئی۔