دہلی

ہندوستان کو تیل خرید نے کی عارضی اجازت، فرمانبردار پر مودی حکومت کی ستائش

وائٹ ہاؤز کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی عارضی اجازت یہ یقینی بنانے کے لئے دی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بیچ انرجی سپلائی جاری رہے۔

نیویارک/ واشنگٹن (پی ٹی آئی) وائٹ ہاؤز کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی عارضی اجازت یہ یقینی بنانے کے لئے دی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بیچ انرجی سپلائی جاری رہے۔

متعلقہ خبریں
ٹرمپ کی ریلی میں پھر سکیورٹی کی ناکامی، مشتبہ شخص میڈیا گیلری میں گھس گیا (ویڈیو)
حکومت کی پالیسیوں سے کروڑوں افراد کی معاشی حالت کمزو :پرینکا
امریکی مشیر قومی سلامتی کا 2 روزہ دورہ ہند
کملاہیرس اور ٹرمپ میں کانٹے کی ٹکر متوقع
مودی دور میں سرمایہ کاری اور عام کھپت کا ڈبل انجن پٹری سے اتر گیا: کانگریس

عہدیدار نے کہا کہ ہندوستان میں امریکہ کے حلیف بڑے فرمانبردار ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وہ ہندوستانی تیل صاف کرنے والی کمپنیوں (ریفائنرس) کو روسی تیل خریدنے کی 30 دن کی چھوٹ مغربی ایشیا میں بڑھتی جنگ کے پس منظر میں دے رہا ہے۔

وائٹ ہاؤز کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے منگل کے دن پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صدر ٹرمپ‘ وزیر خزانہ اسکاٹ بسنٹ اور ساری قومی سلامتی ٹیم نے ہندوستان کو چھوٹ دینے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ وہاں کی حکومت بڑی فرمانبردار ہے اور اس نے سابق میں ہمارے کہنے پر روسی تیل خریدنا روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مختصر مدتی اقدام سے روس کی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ ہونے والا نہیں۔ وائٹ ہاؤز کی عہدیدار کے بیان پر ہندوستان میں سخت تنقید ہوئی۔

کانگریس نے کہا کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کو تابعداری کا سرٹیفکیٹ دینے کے مترادف ہے۔ تنقید کے بیچ نئی دہلی میں امریکہ کے سفیر سرجیوگور نے کہا کہ ہندوستان دنیا بھر میں تیل کے دام مستحکم رکھنے میں بڑا شراکت دار ہے