ہندوستان کا خلائی شعبہ ایک فیصلہ کن ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے
خلائی انفراسٹرکچر ٹیلی مواصلات، دفاع، جہاز رانی، فنانس، موسم کی پیشن گوئی، قدرتی آفات کے بندوبست اور گورننس کی بنیاد فراہم کرتا ہے
ہندوستانی خلائی ادارے (آئی ایس پی اے)کی جانب سے مرکزی بجٹ 27-2026 کے لیے پیش کیے گئے مطالبات میں ایک جامع نیا اسپیس ایکٹ، انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر (ان-اسپیس) کے لیے قانونی حیثیت، اس صنعت کے لیے انفراسٹرکچر ، آٹومیٹک روٹ کے تحت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی حد میں اضافہ، پیداواریت سے متعلق ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) اور ٹیکس ہالیڈے جیسے کچھ اہم مطالبات کا ذکر کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی اے نجی خلائی کمپنیوں کی ایک صنعتی انجمن ہے۔ آئی ایس پی اے کا کہنا ہے کہ چونکہ ہندوستان خلائی پالیسی 2023 کے تحت نجی شعبے کی شرکت کے ساتھ ایک عالمی خلائی طاقت بننے کے لیے تیار ہے، اس لیے اگلا اہم قدم مالیاتی، انضباطی اور ساختی تعاون فراہم کرنا ہے تاکہ ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے اورخلا کے شعبےکے شعبے میں ہندوستان کو دنیا کی تین سرکردہ طاقتوں میں شامل کیا جا سکے۔
آئی ایس پی اے نے حکومت کے غور و خوض کے لیے نجی خلائی شعبے کی اہم سفارشات کا خاکہ بھی پیش کیا ہے، جن کا مقصد گھریلو پیداوار کو فروغ دینا، قومی سلامتی کو بہتر بنانا، اعلیٰ قدر والی ملازمتیں پیدا کرنا اور عالمی سطح پر مسابقت کو بڑھانا ہے، جبکہ اسٹریٹجک سیٹلائٹ اور جیو اسپیشل ڈیٹا تک کنٹرول شدہ اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
ہندوستان کا خلائی شعبہ ایک فیصلہ کن ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، پھر بھی سرمایہ کاری کے لیے سازگار نوعیت اور 5 سے 7 سال کے طویل دورانیے کی وجہ سے اسے مالی وسائل تک رسائی میں ساختی طور پر نقصان کا سامنا ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر دیگر ممالک خلائی اثاثوں کی اسٹریٹجک یاانتہائی اہم بنیادی ڈھانچے کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں،ہندوستان کے خلائی ماحولیاتی نظام میں فی الحال رسمی طور پر انفراسٹرکچر کی کمی ہے، جس کی وجہ سے طویل مدتی اور کفایتی سرمائے تک رسائی محدود ہے۔ خلائی انفراسٹرکچر کو ایک الگ انفراسٹرکچر سب سیکٹر کے طور پر تسلیم کرنا بڑے پیمانے پر کام شروع کرنے، نجی سرمایہ کاری اور عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔
خلائی انفراسٹرکچر ٹیلی مواصلات، دفاع، جہاز رانی، فنانس، موسم کی پیشن گوئی، قدرتی آفات کے بندوبست اور گورننس کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کی رسمی شناخت سے انفراسٹرکچر گریڈ کی مالی معاونت ممکن ہو گی، سرمائے کی لاگت میں 2 سے 3 فیصد تک کمی آئے گی اور ملک کے لچیلے پن کو مضبوط کرے گی۔
آئی ایس پی اے چاہتا ہے کہ حکومت وزارت خزانہ اور آر بی آئی کی طرف سے مشتہر انفراسٹرکچر سب سیکٹرز کی ہارمونائزڈ ماسٹر لسٹ میں ’’اسپیس اینڈ سیٹلائٹ انفراسٹرکچر‘‘ کو شامل کرے اور ایک الگ انفراسٹرکچر سب سیکٹر بھی مشتہر کرے جس میں لانچ وہیکلز اور اسپیس پورٹس، سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ اور انٹیگریشن کی سہولیات(ایل ای او/ ایم ای او/ جی ای او) ، گراؤنڈ اسٹیشنز، ٹی ٹی سی نیٹ ورکس، مشن کنٹرول سینٹرز، ارتھ آبزرویشن اور کمیونیکیشن کونسٹی لیشنز شامل ہوں۔
آئی ایس پی اے کے مطابق، حکومت کو یہ لازمی قرار دینا چاہیے کہ خلائی خدمات، ہارڈ ویئر اور مشنز کے لیے اس کی تمام خریداری کا کم از کم 50 فیصد ہندوستانی نجی اداروں(این جی ای) سے حاصل کیا جائے۔ اس میں سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ اور پے لوڈز، ارتھ آبزرویشن ڈیٹا اور اینالیٹکس، سیٹ کام (ایس اے ٹی سی او ایم) سروسز اور گراؤنڈ انفراسٹرکچر، لانچ سب سسٹم اور ڈیپ ٹیک اجزاء اور اسپیس سچویشنل اویئرنس (ایس ایس اے) نیٹ ورکس کو شامل کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ حکومت کو اپنی مختلف وزارتوں کو بطور اینکر کسٹمر بھی پیش کرنا چاہیے۔ گورننس اور تجارتی ایپلی کیشنز میں سیٹلائٹ سے حاصل کردہ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، معیار بندی اور سیکورٹی انتہائی اہم ہیں۔ خریداری اور رسائی کا ایک منظم فریم ورک قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملکی صنعت کے لیے مددگار ہوگا۔
مالی مراعات کے حوالے سے، آئی ایس پی اے نے سیٹلائٹ، لانچ وہیکلز، اسپیس گریڈ اجزاء اور اہم سب سسٹمز کے لیے پی ایل آئی (پی ایل آئی) اسکیم کا مطالبہ کیا ہےیعنی خلائی مینوفیکچرنگ، لانچ سروسز اور خلائی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے پانچ سالہ ٹیکس ہالیڈے فراہم کرنے؛ خلائی شعبے کی کوالیفائنگ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ(آر اینڈ ڈی) کے لیے 20 سے 30 فیصد آر اینڈ ڈی ٹیکس کریڈٹ فراہم کرنے؛ سیٹلائٹ، راکٹ اور لانچ سے متعلق ہارڈ ویئر کے لیے تیزی سے ڈیپریسی ایشن اور لانچ پیڈز، گراؤنڈ اسٹیشنز اور سیٹلائٹ پروڈکشن پلانٹس کے لیے کیپیٹل انویسٹمنٹ ٹیکس کریڈٹ کی استدعا کی ہے۔ صنعتی لابی باڈی یہ بھی چاہتی ہے کہ حکومت شرح سود میں رعایت، آر اینڈ ڈی کو فروغ دینے کے لیے مراعات، اور اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو معقول بنا کر مکمل ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کو ممکن بنائے۔(یو این آئی)
ہندوستان کے خلائی شعبے کو اسٹریٹجک نگرانی برقرار رکھتے ہوئے عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایس پی اے چاہتا ہے کہ ان اسپیس ہی وہ ایجنسی ہو جو اس کی بہت سی تجاویز کی نگرانی کرے یا ان کی منظوری دینے والی ایجنسی کے طور پر کام کرے۔ آئی ایس پی اے نے کہا کہ ہندوستان اپنے خلائی سفر کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ خلا کو اہم انفراسٹرکچر تسلیم کر کے، نجی شعبے کی شرکت کو لازمی قرار دے کر، ٹیکسوں کو معقول بنا کر، آر اینڈ ڈی کی حوصلہ افزائی کر کے اور ریگولیٹری یقین کو مضبوط بنا کر، مرکزی بجٹ 27-2026 حکومت کے کردار کو فراہم کنندہ سے ہٹا کر ایک شراکت دار اور اہم خریدار کے طور پر فیصلہ کن طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔